پنجاب میں سی این جی رکشے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے چار بڑے شہروں میں موجودہ دو سٹروک آٹو رکشوں پر مرحلہ وار پابندی عائد کی جارہی ہے اور حکو مت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ڈھائی سال کے اندر لاہور ملتان ، فیصل آباد،گوجرانوالہ اور راولپنڈی میں موجودہ رکشوں کی جگہ قدرتی گیس سے چلنے والے رکشے لے لیں گے۔ یہ بات وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا گرین پنجاب کے پروگرام کے تحت سی این جی سے چلنے والے رکشے کی اصل قیمت تو ایک لاکھ روپے ہے لیکن خریدار کو صرف اٹھائیس ہزار روپے کی ادائیگی پر فراہم کر دیا جاۓ گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب رکشے کی کل قیمت میں سے تیس ہزار روپے خود فراہم کرے گی اور باقی رقم آسان قسطوں پر وصول کی جاۓ گی۔اس باقی رقم پر بھی کوئی مارک اپ وصول نہیں کیا جاۓ گا اور حکومت اس رقم کا مارک اپ یا سروس چارجز بھی خود ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی این جی پٹرول اور دوسری گیس ایل پی جی کے مقابلے میں سستی پڑتی ہے اور پھر اتنی آسان شرائط پر نئے رکشے کے فراہمی سے رکشہ مالکان کے اخراجات میں قابل ذکر کمی آۓ گی اور اس طرح رکشاؤں کے کرائے بھی کم ہوسکیں گے۔ پریس کانفرنس میں بتایاگیا کہ یہ رکشا ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی بنیاد پر ملیں گے لیکن حکومت کی کوشش ہوگی کہ کسی درخواست گزار کو مایوس نہ کیا جاۓ۔ ایک سرکاری ترجمان کے مطابق اس سے پہلے ایک اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر تیار شدہ موٹر سائیکل رکشوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جاۓ گا اور ملک میں آئندہ صرف چار سٹروک رکشہ کی تیاری کی اجازت دی جاۓ گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||