لاہور: رکشوں کی ہڑتال منسوخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں رکشہ یونین نے کل بھوک ہڑتال اور بائیس جولائی کو پہیہ جام ہڑتال کرنے کا اعلان منسوخ کردیا اور کہا کہ حکومت نے ان کے مطالبے مان لیے ہیں۔ یونین کے مطابق لاہور شہر میں پینتیس ہزار رجسٹرڈ اور چند ہزار غیر رجسٹرڈ رکشے ہیں جن میں سے نوے فیصد ایل پی جی گیس پر چلتے ہیں۔ یونین کے صدر جاوید صابر کا کہنا ہے کہ تین ماہ سے پنجاب حکومت کا محکمۂ ٹرانسپورٹ اور محکمۂ ماحولیات رکشوں سے ایل پی جی کٹ اتروانے کے لیے مہم چلا رہا تھا اور ڈھائی ہزار سے زیادہ رکشوں کے چالان کیے گۓ اور پندرہ سو کی گیس کٹ اتروا دی گئی۔ حکومت کا موقف تھا کہ ایل پی جی گیس استعمال کرنے والےرکشے خطرناک ہیں جبکہ رکشہ یونین کا کہنا تھا کہ آج تک ان کی وجہ سے کوئی حادثہ نہیں ہوا اور حکومت نے خود پانچ سال پہلے انھیں پیٹرول کے بجائے گیس کٹ لگوانے کی ترغیب دی تھی۔ رکشہ یونین کے صدر جاوید صابر نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ کے چیف سیکرٹری کامران رسول نے ان سے ملاقات کی اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تین ماہ سے رکشوں کے خلاف جاری مہم بند کردی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ چیف سیکرٹری نے متعلقہ محکموں سے کہا ہے کہ جب تک ایل پی جی گیس کے استعمال کا مکمل تجزیہ نہیں ہوجاتا اس کو استعمال کرنے پر رکشوں کے خلاف کاروائی نہ کی جاۓ۔ یونین کے صدر کا کہناتھا کہ چیف سیکرٹری نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ دو اسٹروک انجن والے رکشوں کی رجسٹریشن بند کردی جاۓ اور چار اسٹروک انجن کے رکشوں کو چلانے کے لیے تجاویز کا جائزہ لیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||