پشاور میں ٹریفک پولیس کی مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک پولیس نے رکشہ ڈرائیوروں کو اپنی لین میں چلانے کے لیے ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے۔ صرف پشاور میں ایک اندازے کے مطابق دس ہزار کے قریب رکشے ہیں لیکن ان کو ان کے چلانے کے انداز کی وجہ سے کافی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ تین پہیوں والے مسافر سواری رکشہ پاکستان میں کم خرچ ہونے کی وجہ سے کافی مقبول ہے۔ کونسا شہر ہے جہاں کی سڑکوں پر یہ شور مچاتا دھواں اڑاتا نظر نہیں آتا۔ ماحولیاتی آلودگی اپنی جگہ لیکن رکشہ ڈرائیوروں کا اسے چلانے کے انداز سے بھی لوگ نالاں رہتے ہیں۔ رکشہ میں سفر کرنے والے ایک مسافر نوجوان احمد حسین کو بھی یہی شکایت تھی۔ ’ڈرائیور رکشہ بہت بری طرح چلاتے ہیں، تیز رفتاری کرتے ہیں جس وجہ سے ان کے حادثے کافی ہوتے ہیں۔ ان کی آواز بھی بہت خراب ہوتی۔’
ٹریفک پولیس کے اس مہم میں مصروف ایک انسپکٹر وقار احمد اس مہم سے کافی پراُمید نظر آتے تھے۔ ان سے اس مہم کی تفصیل دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ چند روز کی کوشش ہے جوکہ شہر کے مختلف مقامات پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فل الحال اس مہم کا مقصد رکشوں کو اپنی لین میں رہنے پر آمادہ کرنا ہے لیکن ساتھ میں ان کی نمبر پلیٹ اور اشارے وغیرہ بھی چیک کئے جاتے ہیں۔ ’ہمیں امید ہے کہ اس سے ٹریفک کے مسائل میں کمی ہوگی اور لوگ بہتری محسوس کریں گے۔’ ڈرائیور صاحبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ ان کا رکشہ چلانے کا انداز غلط ہے۔ سات برسوں سے رکشہ چلا رہے ایک ڈرائیور گل رحمان کا کہنا تھا کہ وہ ادھر ادھر رکشہ گھماتے منی بسوں کی وجہ سے ہیں۔ ’وہ ہماری لین میں بس کھڑی کر دیں تو ہم کہاں جائیں۔’ البتہ ماہرین کے خیال میں اس طرح کی مہم کے علاوہ رکشہ ڈرائیوروں کی ٹریفک قوانین کے بارے میں آگہی کی جانچ پڑتال لائسینس حاصل کرنے کے موقعے پر بھی ضروری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||