BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زبان سانجھی ملک جدا

عالمی پنجابی کانگریس
عالمی پنجابی کانگریس، فائل فوٹو

وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے نویں عالمی پنجابی کانگریس سے خطاب کرتے ہوۓ کہا ہے کہ رہن سہن، رسم و رواج اور زبان بے شک ایک سہی لیکن ملک اپنا اپنا ہی بہتر ہے۔

وزیراعلیٰ نے یہ بات پنجابی کے عالمی اجتماع کے افتتاحی اجلاس سے کہی جس میں بھارتی پنجاب سے، وہاں کے وزیرتعلیم پرنام داس جوہر سمیت، ایک سو چالیس سے زیادہ مندوبین بھی موجود تھے۔ سہ پہر کو بھارتی پنجاب کے وزیراعلی منندر سنگھ بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور آرہے ہیں جہاں ان کا ریاستی مہمان کے طور پر استقبال کیا جارہا ہے۔

پنجابی کانگریس کو پہلی بار حکومتی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ ہندوستان سے آنے والے مندوبین میں ادیبوں کے علاوہ اعلی سرکاری عہدیدار بھی شامل ہیں جن کو پاکستان میں سرکاری استقبال سے نوازا جارہا ہے۔

پرویز الٰہی نے اپنی خطاب میں جہاں پنجابی کے فروغ کے لیے اپنی حکومت کی وابستگی کو واضح کیا وہاں ہندوستان سے پینگیں بڑھانے کی تنقید سے بچنے کے لیے ملک اپنا اپنا کا نعرہ بھی بلند کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض اوقات ہم کہہ دیتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان لکیریں مٹا دو لیکن ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ ایک زبان بولنے والے اور ایک ہی طرح کے رہن سہن کے حامل عربوں کے دس ملک ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ زبان جھگڑوں کے خاتمہ میں مددگار ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان محبت اور پیار آہستہ آہستہ ان کے جھگڑوں اور رنجشوں کو ختم کرنے کا باعث بنے گا۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے پنجاب کے موسم ایک جیسے ہیں یہاں بارش ہوتی ہے تو وہاں بھی ہوتی ہے اور موسم خراب ہو تو دونوں طرف نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ہندوستان میں پنجابی کے فروغ اور ادب کو محفوظ کرنے کے لیے جو پیش رفت کی گئی اور جیسی کامیابی حاصل ہوئی ویسا پاکستان میں نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انفرادی سطح پر کام ہوا لیکن تمام سابقہ حکومتوں نے اس سلسلے میں کوتاہی برتی۔

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ایک وفد دوسرے صوبوں میں بھیجا جس نے دیکھا کہ ان صوبوں میں وہاں کی زبانوں پر پچھلے پچاس برسوں میں کیا کام ہوا ہے جس کے بعد ہم نے بھی پنجابی کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر کام کی ابتدا کی۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ لاہور میں پنجابی کے فروغ اور اس کے ادب کو محفوظ کرنے کے لیے ایک ادارہ بنایا جاۓ گا جس میں عجائب گھر، کتب خانہ، پانچ سو لوگوں کے بیٹھنے کا ہال اور پنجابی میوزک اور شاعری کے شعبے بھی بناۓ جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے عالمی پنجابی کانفرنس کو پچیس لاکھ روپے عطیہ دینے کے علاوہ قومی اخبارات میں پنجابی ادیبوں کے کام کے خصوصی ایڈیشن چھپوانے اور پنجابی کتابوں پر سرکاری انعامات کی رقوم بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد