پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ صوبہ کے پانچ اضلاع دوسرے اضلاع کے مقابلے میں معاشی ترقی کے اعتبار سے بہت پسماندہ ہیں جن میں خوشاب، بھکر، میانوالی، راجن پور اور لیہ شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بجٹ سے پہلے صوبہ کی معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ہر ضلعے کے اعداد وشمار جاننے کے لیے ان کا تفصیلی سروے مکمل کرلیا ہے تاکہ حکومت کو پتہ چل سکے کہ کس جگہ پر اور کس شعبہ میں کتنے وسائل لگانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ہر ضلعے کی آبادی کے لحاظ سے اسے رقوم فراہم کرتی ہے لیکن جنوبی پنجاب کے پندرہ ضلعے پسماندہ ہیں اور انہیں گزشتہ بجٹ میں آبادی کے تناسب سے زیادہ وسائل دیے گئے تھے اور اس بار بھی ایسا کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومت لاہور میں دریائے راوی کے ایک حصہ کو جھیل بنا کر تیس ہزار ایکڑ رقبہ پر لیک سٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے ابوظہبی کے حکمران خاندان نے تیس ارب روپےکی سرمایہ کاری کرنے کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں فیروزپور روڈ پر دبئی گروپ کے ساتھ مشترکہ منصوبہ کے ذریعے پونے چار ارب ڈالر مالیت سے زائد سینٹر بھی بنایا جارہا ہے۔ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ لاہور کو اگلے دو سال میں آلودگی سے پاک شہر بنایا جائے گا اور چنگ چی رکشوں اور دو اسٹروک رکشوں پر مکمل پابندی لگادی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ تونسہ بیراج کو بھی اپ گریڈ کرنے پر کام کیا جارہا ہے اور عالمی بینک کے تعاون سے زمین کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا پروگرام چل رہا ہے۔ پنجاب حکومت پہلی تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری سکولوں میں پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے طالبعلموں کو مفت نصابی کتابیں دیتی ہے اور اب وزیراعلی کے مطابق اگلے بجٹ سے دسویں جماعت تک نصابی کتابیں مفت دی جائیں گی۔ وزیراعلی نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کے تحت پنجاب کے اگلے بجٹ میں ضلعی حکومتوں کے لیے نوے ارب کی رقم مختص کی جارہی ہے جو اس سال چوہتر ارب روپے تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||