پنجاب اسمبلی کا نیا ہال اور نیا ہاسٹل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں صوبائی اسمبلی میں ارکان کی تعداد زیادہ ہوجانے کے پیش نظر اسمبلی کی تقریبا سوا سو سال پرانی عمارت کے بجائے ایک نیا اسمبلی ہال تعمیر کیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی کی ہاؤس کمیٹی نے نئے اسمبلی ہال اور نئے اسمبلی ہاسٹل کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے جبکہ حکومت پنجاب نے اس کے لیے پچاس کروڑ روپے کے فنڈز مختص کردیے ہیں۔ آج پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم میں ہاؤس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اور رکن اسمبلی اور کمیٹی کے چیئرمین رائے رب نواز نے صحافیوں کو بتایا کے نئے ہال میں پانچ سو ارکان کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی اور اس کے ساتھ وزراء اور اسپیکر وغیرہ کے چیمبر بھی بنائے جائیں گے۔ اس وقت صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تعداد تین سو اکہتر ہے جبکہ سنہ دو ہزار دو کے انتخابات سے پہلے دو سو چالیس تھی۔ اس وقت کئی ارکان ہال میں گنجائش نہ ہونے کے باعث مہمانوں کی گیلریوں میں بیٹھتے ہیں جنھیں ایوان کا حصہ قرار دے دیاگیا ہے۔ چیئرمین ہاؤس کمیٹی نے بتایا کہ اسمبلی کے سامنے بنائے گئے نئے ایم پی اے ہوسٹل کے ساتھ چالیس مزید کمروں کا اضافہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے اسمبلی ہال کے لیے پچیس کروڑ روپے اور نئے ہاسٹل کے لیے بھی پچیس کروڑ روپے مختص کردیے ہیں۔ اسمبلی کے اسٹاف کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی پرانی عمارت کو سیکریٹیریٹ میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے اور نئی عمارت اس کے عقب میں سبزہ زار پر تعمیر کی جائے گی۔تاہم سرکاری طور پر ابھی اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس سال کے مالی بجٹ میں نئے اسمبلی ہال اور ہاسٹل کی تعمیر کے لیے کوئی منصوبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل نہیں تھا جس پر حزب مخالف کے نکتہ اعتراض پر وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا تھا کہ نیا اسمبلی ہال اسی سال تعمیر ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||