پنجاب کا بجٹ کس کا بجٹ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے مالی سال سن دو ہزار چار اور پانچ کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور جائیداد پر پرانے ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں مِڈل سکولوں کو ہائی سکولوں کا درجہ دینے اور آٹھویں جماعت تک کہ سرکاری سکولوں کے طالب علموں کو مفت کتابیں دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ جمعرات کو پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر خزانہ حسنین دریشک نے ایک سو اسّی ارب روپے مالیت کی بجٹ تجاویز پیش کیں جن میں تینتالیس ارب چوالیس کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھے گۓ ہیں۔ نۓ مالی بل میں صوبہ بھر میں رہائشی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے پانچ مرلے کے مکانات کو پراپرٹی ٹیکس سے مثتثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ زرعی اراضی اور دیہی جائیداد کی خرید و فروخت پر سٹیمپ ڈیوٹی کی شرح چار فیصد سے کم کرکے دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مکانات و تعمیرات کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے شہری جائداد کی خرید و فروحت پر سٹیمپ ڈیوٹی پانچ فیصد سے کم کرکے دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت لینڈ ایکویزیشن ، کرایہ داری کے قانون اور بلڈنگ بائی لاز سے متعلقہ قوانین میں ترمیم کرے گی تاکہ تعمیرات کی صنعت کو فروغ ملے۔ بجٹ میں نجی کمپنیوں کے میمورنڈم آف آرٹیکلز یندڈ ایسوسی ایشن پر رائج سٹیمپ ڈیوٹی مکمل ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نۓ مالی بل میں سینما کی صنعت کو بھی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے اور سینما گھروں پر عائد تفریحی ڈیوٹی کی موجودہ شرح تیس فصد سے کم کرکے پندرہ فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹروں پر عائد پروفیشنل ٹیکس کی شرح وکلاء پر عائد شرح کے برابر کردی گئی ہے۔ تاہم بجٹ میں ڈرائیونگ ٹیسٹ فیس میں دس روپے اضافہ کی تجویز دی گئی ہے اور ٹوکن ٹیکس اور چند دوسری مدوں میں معمولی اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے لیے وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ رقم وفاقی حکومت مہیا کرے گی۔ حکومت آئندہ دو برسوں میں دس ارب روپےکی لاگت سے سرکاری ملازمین کے لیے سات ہزار مکانات تعمیر کرے گی۔ بجٹ میں تونسہ بیراج کی مرمت اور نہروں کی پختگی سمیت آبپاشی کے کئی بڑے منصوبوں کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف قاسم ضیا نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام سے زیادہ وزیروں کی مراعات کا خیال رکھا گیا ہے۔ وہ وزیروں کے لیے کرایہ مکان میں پچہتر فیصد اضافہ اور آرائش کے لیے لامحدود رقوم دیئے جانے کے بل کی طرف اشارہ کررہے تھے۔ قاسم ضیا نے کہا پانچ مرلہ مکانوں پر پراپرٹی ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ حزب مخالف نے کیا تھا اور ایوان نے اس پر ایک قرار داد منظور کی تھی اور بل پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب اس تجویز کو بجٹ کا حصہ بنادیاگیا ہے جس پر انھیں خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واحد نکتہ کے علاوہ بجٹ میں عوام کے فائدہ کے لیے کچھ نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||