پنجاب 36 ارب روپے کا ضمنی ’بوف‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو پنجاب میں گزشتہ سال کے لیے صوبے کا ضمنی بجٹ پیش کیا گیا جس کا مقصد ایک ارب پچپن کروڑ روپے سے زیادہ وی وی آئی پی کے حفاظتی اقدامات اور وزیراعلی کے زیراستعمال مختلف گھروں اور پنجاب ہاؤسز پر خرچ جانے والے اربوں روپے سمیت مجموعی طور پر چھتیس ارب تیراسی کروڑ کے اضافی اخراجات کی توثیق حاصل کرنا ہے۔ حزب مخالف نے اس ضمنی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کا سپلیمینٹری بوفے قرار دیا اور کہا کہ حکومت عوام کو تحفظ دینے کے بجائے اپنی حفاظت کے لیے اربوں روپے خرچ کررہی ہے اور ملک کے وسائل حکمرانوں کی فضول خرچیوں پر لٹائے جارہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رانا ثنااللہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے لیے ایک سو اننچاس ارب اور چونتیس کروڑ کا بجٹ منظور ہوا تھا لیکن اب حکومت نے اس اصل بجٹ کے پچیس فیصد کے برابر چھتیس ارب اور تراسی کروڑ روپے سے زیادہ کا ضمنی بجٹ پیش کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے کا مقصد ایک حد میں رہنا ہوتا ہے اوراگر حکومت نے ایسا نہیں کرنا تھا تو بجٹ پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضمنی بجٹ میں وی وی آئی پی کی حفاظت کے لیے ساٹھ کروڑ پچیس لاکھ روپے سے زیادہ کی گاڑیاں خریدی گئیں اور ان کی حفاظت کے لیے پولیس سٹاف پر سات کروڑ ستر لاکھ روپے خرچ کیے گۓ۔ اس ضمنی بجٹ میں وی وی آئی پی کی حفاظت کے لیے خفیہ نگرانی کی خاطر بیس لاکھ روپے خرچ کیے گۓ اور بعد میں اسی مقصد کے لیے تین کروڑ اکیانوے لاکھ روپے اور ایک کروڑ انیس لاکھ روپے سپیشل برانچ (پولیس کے محکمہ جاسوسی) پر خرچ کیے گۓ۔ رانا ثناللہ نے کہا کہ پانچ کروڑ تیرہ لاکھ روپے کی دو بلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئیں اور ایم آئی سترہ ہیلی کاپٹر اکیس کروڑ چالیس لاکھ روپےکا خریدا گیا اور سیسنا ہوائی جہاز کی مرمت پر نو کروڑ چھیاسٹھ لاکھ روپے خرچ کیے گۓ۔ ضمنی بجٹ میں وزیراعلی اور حکومت کے اعلی عہدیداروں کے زیراستعمال پنجاب ہاؤس وغیرہ کی تزئین و آرائش کے لیے بھاری رقم خرچ کی گئی۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ ضمنی بجٹ میں ساڑھے تین ارب روپے ڈیوریبل گڈز (استعمال کی پائیدار اشیا) پر خرچ کیے گۓ ہیں۔ رانا ثناللہ نے کہا کہ ضمنی بجٹ میں مری میں پنجاب ہاؤس میں وزیراعلی پنجاب کے گھر (سویٹ) پر چوالیس لاکھ اسی ہزار روپے خرچ کیے گۓ ہیں اور پنجاب ہاؤس مری میں آٹھ لاکھ روپے کا فرنیچر خریدا گیا۔ پنجاب ہاؤس اسلام آباد پر بیس لاکھ روپے خرچ کیے گۓ اور چالیس لاکھ روپے فرنیچر پر خرچ کیے گۓ۔ انھوں نے کہا کہ لاہور میں سات کلب روڈ پر وزیراعلی ہاؤس کے لیے تقریبا پانچ لاکھ روپے کی کراکری خریدی گئی۔ پنجاب ہاؤس کی مرمت اور آرائش (رینوویشن) پر چالیس لاکھ روپے خرچ کیے گۓ اور ا س کے بی بلاک میں گورنر کے سویٹ کے لیے پچیس لاکھ روپے اور جی بلاک کے لیے بارہ لاکھ روپے رکھے گۓ۔ ضمنی بجٹ میں وزیراعلی کے ہی زیراستعمال میسن ہال نوے شاہراہ قائداعظم پر میٹنگ ہال کے لیے تین کروڑ روپے مانگے گۓ اور سات کلب روڈ پر وزیراعلی ہاؤس کےلیےاضافی چھ لاکھ روپے مانگے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||