پنجاب کی خاتون وزیر مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کی صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود صغریٰ حسین امام نے وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے نام ایک خط میں صوبائی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صغریٰ امام نے اپنے خط میں کہا ہے کہ وہ قومی خزانہ پر بوجھ نہیں بننا چاہتیں اور وزیراعلی کے لیے نیک خواہشات کا ذکر کیا ہے۔ چند ہفتوں سے پنجاب میں یہ افواہ چل رہی تھی کہ وزیراعلی پنجاب خراب کارکردگی کی بنا پر چند وزراء کو فارغ کررہے ہیں اور صغریٰ امام کا نام ان لوگوں میں شامل ہے۔ تاہم آج صغریٰ امام نے خود سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ صغریٰ امام کی والدہ بیگم عابدہ حسین حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کی رکن تو ہیں لیکن اس کی قیادت سے ناراض گروہ میں شامل ہیں۔ چند ماہ سے یہ افواہیں گرم ہیں کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان پیلز پارٹی (بے نطیر گروپ) میں شمولیت کا اعلان کردیں گی۔ تاہم انھوں نے اب تک ان افوہوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ عابدہ حسین کے کزن اور وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین چھوڑ کر منحرف گروپ میں شامل ہوئے تھے جس نے اب پاکستان پیپلز پارٹی کا نام اختیار کرلیا ہے۔ فیصل صالح حیات اور عابدہ حسین ضلع جھنگ میں ایک دوسرے کے مقامی حریف تصور کیے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||