فوج سے چراگاہیں واپس لینے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب حکومت کےوزیرمناظر علی رانجھا نے پنجاب اسمبلی کو بتایا کہ حکومت صوبہ میں فوج کو دی گئی چراگاہیں واپس لینے کے لیے بات چیت کررہی ہے تاکہ زمین اصل مالکان کو واپس دی جا سکے۔ وزیر نے ایوان کوپاکستان آرمی کو چالیس روپے فی پیداواری یونٹ کے حساب سے دی جانے والی تقریبا پچاس ہزار ایکڑ زرعی زمین کی بھی تفصیلات بتائیں۔ متحدہ مجلس عمل کے رکن احسان اللہ وقاص نے سوال پوچھا تھا کہ گزشتہ سال پنجاب نے وفاقی حکومت کے محکمہ دفاع کو کتنی اراضی دی اور اس کی کیا قیمت وصول کی۔ صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ سن انیس سو ننانوے میں فوج کو تیس ہزار ایکڑ اراضی چالیس روپے فی پیداواری یونٹ کے حساب سے دی گئی۔ وزیر نے کہا اس تیس ہزار ایکڑ زمین میں زیادہ تر بنجر زمین ہے وزیر نے ایوان کوبتایا کہ حکومت بنجر اور غیر آباد زمین فوج کو دیتی ہے جسے وہ اپنے پیسوں سے قابل کاشت بناتے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ کارگل کے شہداء کے ورثا کے لیے صوبہ کے مختلف اضلاع میں دو ہزار ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ آرمی ویلفئر اسکیم کے تحت اٹھارہ ہزار ایک سو تیس ایکڑ زرعی اراضی مختص کی گئی ہے جسے ساٹھ روپے فی پیداواری یونٹ کے حساب سے فوجیوں کو دیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ فوج کو جو زمین دی جاتی ہے اس کی قیمت بیس یکساں قسطوں میں وصول کی جاتی ہے جس پر ساڑھے دس فیصد سالانہ کے حساب سے سادہ سود لیا جاتا ہے اور تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں ساڑھے تیرہ فیصد تاوانی سود وصول کیا جاتا ہے۔ احسان اللہ وقاص نے ضمنی سوال میں کہا کہ فوج کو بہت سستی زمینیں دی جاتی ہیں اور فوجی سستے داموں حاصل کردہ زمینیں مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔ رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسا طریقہ نکالے کہ سرکاری اراضی فوج کے علاوہ دوسرے مستحقین کو بھی دی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||