| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا جنرل کے اہل خانہ قانون سے بالاتر ہیں؟
لاہور میں فوج کے ایک میجر جنرل کی گاڑی کو روک کر اس کے شیشے کالے کرنے والے کاغذ اتارنے کا مطالبہ کرنے والے پولیس کانسٹیبل کو گرفتار کر کے اسی تھانے میں قید کردیا گیا جہاں وہ تعینات تھا۔ تھانے کے تھانے دار (ایس ایچ او) کو لائن حاضر کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر اعلیٰ افسران کو تحقیقات کا سامناہے۔ واقعہ پر ایک باقاعدہ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس میں ملزم وہ پولیس کانسٹیبل نامزد ہوا ہے جس نے کالے کاغذ اتارنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق کے قتل کے بعد دہشت گردی کے خدشہ کے پیش نظر ملک بھر میں حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں اور اسی سلسلے میں لاہور میں گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے جانے کی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ اسی مہم کے دوران لاہور بھر میں دن میں ٹریفک پولیس کے اہلکار اور رات کو ضلعی پولیس اہلکار بھی ناکے لگا کر گاڑیوں کے شیشوں پر لگے کالے شیشے اتارتے ہیں اور اکثر گاڑیوں کی تلاشی اورچالان بھی ہوتا ہے۔ روزانہ سینکڑوں گاڑیوں کے کالے کاغذ اتارے جا رہے تھے اسی دوران منگل کی شب لاہور کے ایک جدید علاقے گلبرگ میں اسی طرح کا ناکہ لگا تھا اور گاڑیوں کو روک کر ان کے کالے شیشے اتارے جا رہے تھے کہ اسی دوران ناکے پر ایک ایسی گاڑی روکی گئی جس کی نمبر پلیٹ پر آرمی کا نشان بنا تھا۔ اس گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ چند خواتین سوار تھیں۔ تھانہ غالب مارکیٹ میں گالم گلوچ اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے الزامات کے تحت درج ایف آئی آر کے مطابق اس گاڑی میں فوج کے حاضر سروس میجر جنرل صباحت حسین کے اہل خانہ سوار تھے۔ پولیس کانسٹیبل نذیر احمد نے گاڑی کے شیشوں سے کالے کاغذ اتارنے کا مطالبہ کیاایف آئی آر میں درج ہے کہ ’ فوجی ڈرائیور لانس نائیک قیصر عباس نے انکار کیا اور کےکہا کہ یہ جنرل کی گاڑی ہے جس پر کانسٹیبل نے کہا کہ وہ کسی جنرل کو نہیں جانتا گاڑی کے کالے کاغذ غیر قانونی ہیں گاڑی کے سیاہ کاغذ اتار دیں لیکن ڈرائیور نہ مانا جس پر اس سے تلخ کلامی ہوئی‘ کوئی پولیس افسر اس معاملہ پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن نام نہ بتانے کی شرط پر ایک پولیس افسر نے بتایا کہ جب پولیس کانسٹیبل نے سیاہ کاغذ خود اتارنے کی کوشش کی تو ڈرائیور نے اسے مارا دیگر اہلکاروں نے انہیں چھڑایا چند ایک نے ڈرائیور سے معافی مانگی اور اسے جانے دیا لیکن چند ہی منٹ بعد وائرلیس پیغامات نشر ہونے لگے اور افسران دوڑنے لگے۔ کیپٹل سٹی پولیس افسرسمیت تمام متعلقہ افسران کو میجر جنرل نے طلب کر لیا ان سے جواب طلبی ہوئی۔ معافیاں مانگی گئیں۔ بیشتر کو معافیاں مل بھی گئیں لیکن پولیس کے کمترین عہدے کے ملازم کا مقدر گرفتاری بنی۔ اس کی بیلٹ اور ٹوپی اتروالی گئی اور اسی رات اسے تھانے کی حوالات میں بند کر دیا گیا۔ اگرچہ ایس ایچ او شاہد احمد کے بیان پر پولیس کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا لیکن ایس ایچ او خود بھی نہ بچ سکے انہیں لائن حاضر کردیا گیا اور ایک پولیس افسر نے بتایا کہ فوجی افسر ابھی بھی مطئمن نہیں ہیں اور کسی بڑے افسر کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔ ایس پی ماڈل ٹاؤن کیپٹن مبین نے کہا کہ وہ اس معاملہ پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ہیں یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ان پر بہت دباؤ ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ گاڑیوں پر کالے شیشے لگانا غیر قانونی ہیں اور حکومت پنجاب نے یہ پابندی اس لیے عائد کر رکھی ہے کہ کالے شیشوں والی گاڑی میں اسلحہ لے جانا یا مسلح افراد کی نقل و حرکت قدرے آسان ہوجاتی ہے۔ اس واقعہ کے بعد سے لاہور میں سیاہ کاغذ اتارے جانے کی مہم غیر اعلانیہ طور پر بند ہو گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||