| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف حکومت پر بدعنوانی کا الزام
پیپلز پارٹی کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین اور مرکزی رابطہ کمیٹی کے رکن منیر احمد خان نے جنرل پرویز مشرف کے چار سالہ دور حکومت کے بارے میں وائٹ پیپر کی دوسری قسط جاری کی ہے جس میں انہوں نے فوجی حکمرانوں پر لوٹ مار اور بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ وائٹ پیپر میں قومی احتساب بیورو یا نیب کی کارکردگی پر بھی کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ تاہم وزیراطلاعات شیخ رشید نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے وائٹ پیپر میں لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نیب ایک فعال اور کارآمد ادارہ ہے۔ یہ وائٹ پیپر گزشتہ روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جاری کیا گیا۔ منیر احمد نے قومی احتساب بیورو پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ پرویز مشرف کے چار سال کے دوران اس ادارے کی کارکردگی صفر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونائٹڈ بنک کی فروخت میں ساڑھے سات ارب روپےاور پاک سعودی فرٹیلائزر کی فروخت میں دو ارب روپے کا نقصان سرکاری خزانے کو پہنچایا گیا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سرکاری شعبہ میں ایک ہزار سے زیادہ آسامیوں پر حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجیوں کو تعینات کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرویزمشرف دور میں صرف پنجاب کے پانچ ڈویژنوں میں پانچ ہزار ایکٹر اراضی ساڑھے تین سو فوجی افسروں کو صرف تین سو اسی روپے ایکٹر کے حساب سے الاٹ کر کے خاکی جاگیرداری کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے قیمتی اراضی کی اس لوٹ مار پر اس لیے کوئی ایکشن نہ لیا کہ نیب کے دو سابق سربراہان لیفٹنٹ جنرل (ر) سید محمد امجد اور لیفٹنٹ جنرل (ر) خالد مقبول کو خود لاہور کے علاقہ کینٹ میں دو دو کینال کے قیمتی پلاٹ معمولی قیمت پر الاٹ کیے گئے۔ ان پلاٹوں کی مارکیٹ کی قیمت نوے نوے لاکھ روپے ہے۔ جبکہ کینٹ میں ہی جنرل پرویز مشرف کو دو کروڑ روپے مالیت کا ایک پلاٹ الاٹ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین نے اگرچہ چار سال کے دوران ایک سو ارب روپے کی وصولیوں کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے نوے ارب روپے بنکوں نے خود وصول کیے ہیں۔ باقی دس ارب میں سے آٹھ ارب روپے پی ٹی سی ایل اور وفاقی ترقیاتی ادارہ جیسے محکموں نے خود وصول کیے ہیں۔ اس طرح نیب کی وصولی کوئی دو ارب روپے بنتی ہے جبکہ چار سا ل کے دوران نیب کے اپنے اخراجات بارہ ارب روپے تھے یعنی نیب نے دو ارب روپے کی وصولی کے لیے قومی خزانے سے بارہ ارب روپے خرچ کر ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں اب تک قومی بنکوں کو چھبیس ارب روپے کے قرضے معاف کرنا پڑے ہیں اور گورنر سٹیٹ بنک نے حال میں ہی اعلان کیا ہے کہ بنکوں کو مزید تیس ارب روپے کے قرضوں کی معافی کی اجازت دی گئی ہے۔ یعنی اکتوبر 1999 سے لیکر اب تک چھپن ارب کے قرضوں کی معافی ہوئی اور اسی عرصہ میں اٹھاون ارب روپے کے قرضے ری شیڈول ہوۓ ۔ ان میں نیب پر آنے والے اخراجات شامل کرلیے جائیں تو یہ قومی خزانے کو ایک سو چھبیس ارب روپے کا خسارہ ہے جبکہ وصولی صرف سو ارب روپے کی ہے۔ اس عرصہ کے دوران جنرل مشرف کے حامی جن سیاستدانوں کے قرضے معاف کیے گئے ان میں ق لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین ، وزیراعلی پنجاب، ا نکی بیگمات اور رشتہ داروں کے نام پر جاری ہونےوالے قرضے شامل ہیں۔ منیر احمد نے کہا کہ نیب موجودہ کابینہ کے نصف درجن سے زائد ممبران کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے تحت کارروائی کرتی رہی ہے۔ دو سابق وزراۓاعلی آفتاب شیر پاؤ اور لیاقت جتوئی نیب کی سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل رہے ہیں ۔ اسی طرح وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کو اگرچہ اب انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کلیئر کر دیا ہے لیکن ان کے خلاف بھی بطور وزیر اعلی بلوچستان پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور کراچی کے ایک بنک کے گیارہ کروڑ ستر لاکھ روپے کے قرض کی نادہنگی کے الزامات کی تحقیقات ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے کابینہ کے چند دیگر اراکین کی بے ضابطگیوں کی بھی تفصیل بتائی اور کہا کہ کئی مرکزی سیاستدان جنہیں نیب کی تحقیقیات کا سامنا تھا جب انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت کا اعلان کر دیا تو ان کے گناہ معاف ہوگئے اور وہ رہا ہوگئے۔ منیر احمد نے انور سیف اللہ، میاں منظور وٹو، ڈاکٹر فاروق ستار، خالد جاوید وڑائچ، سیف الرحمان اور دیگر کئی سیاستدانوں کی مثال دی اور کہا کہ اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے کئی بے گناہ رہنما جھوٹے مقدمات میں قید ہیں یا اعلی عدالتوں سے ضمانتوں پر رہا ہوۓ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان جھوٹے مقدمات کا یہ حال ہے کہ گرفتار ہونے والے دو سو چھپن سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور کاروباری افراد کے خلاف الزامات سچ ثابت نہ ہو سکے حالانکہ انہیں خاکی وردی والوں نے حراست میں رکھ کر تشدد اور ذلت کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 62 سیاستدانوں کو نیب کی عدالتیں ہی بےگناہ قرار دے چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک سو سترہ سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے کیس بنے تھے جن میں سے پیسنٹھ پیپلزپارٹی اور چھتیس مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھتے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||