پنجاب میں ٹی وی چینلوں کی جنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی میں سرکاری ٹی وی چینل کے ساتھ ساتھ نجی ٹی وی چینلوں کو بھی اسمبلی کے اندر آکر رپورٹنگ کی اجازت دینے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ بدھ کو پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی شفقت عباسی نےپرائیویٹ ٹی وی چینلوں کو اسمبلی کی کوریج کا نقطہ اٹھایا۔ مری سے پنجاب اسمبلی کے رکن نے کہا کہ حکومتی زیِرا نتطام پی ٹی وی قومی اسمبلی کی زیادہ کوریج کرتا ہے لیکن پنجاب اسمبلی کی کاروائی کو بہت کم وقت دیتا ہے جبکہ یہ اسمبلی سات کروڑ عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔ شفقت عباسی کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی کو کہا جائے کہ وہ صوبائی اسمبلی کی کوریج بڑھائے ورنہ نجی ٹی وی چینلوں کو اسمبلی کی کوریج کرنے کی اجازت دی جائے جو اس وقت انھیں حاصل نہیں ہے۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ نجی چینل والے اسمبلی سے باہر کھڑے رہتے ہیں اور صرف پی ٹی وی کو اندر آنے کی اجازت ہے۔ ان نجی چینل کےلوگوں کو بھی اندر آنے کی اجازت دی جائے۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت کا اس معاملہ میں کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ اسے نجی چینلوں کواجازت دینے پر اعتراض ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اسمبلی ایسا مناسب سمجھتی ہے تو وہ اس کی اجازت دے سکتی ہے۔ اس پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثناللہ نے کہا کہ نجی ٹی وی چینلوں کو اسمبلی کی کاروائی کی کوریج کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ مقابلہ کا دور ہے جب نجی چینل کوریج کریں گے تو پی ٹی وی کو بھی اپنی کوریج کا وقت بڑھانا پڑے گا اور ہوسکتا ہے وہ صبح ہی صبح اور رات تاخیر سے اسمبلی کی کارائی نشر کرنے کے بجاۓ پرائم وقت میں ایسا کرنے لگے۔ شوکت مزاری جو اس وقت اسپیکر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ نے تجویز کیا کہ حکومت اور حزب اختلاف کے نمائند وں پر مشتمل ایک کمیٹی بنالیں جو یہ فیصلہ کریں کہ اگر نجی ٹی وی چینلوں کو اسمبلی کی کاروائی کی کوریج کی اجازت دینا ہے یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||