پرویز الٰہی کا وژن 2020 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے وژن 2020 کے نام سے صوبے کی ترقی کے لئے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اگلے تین سال اور پندرہ سال کے منصوبے پیش کئےـ پنجاب کے وزیراعلی نے صوبہ کی ترقی میں صدر جنرل پرویز مشرف کے کردار کی تعریف کی اور بار بار ان کا حوالہ دیا لیکن ایک بار بھی وزیراعظم کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ انھوں نےصوبہ میں اگلے ایک سال میں دس لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا دعوی کیا جس میں سے تیس ہزار سرکاری شعبہ میں ہوں گی اور ایک لاکھ بیس ہزار ترقیاتی پروگراموں کی وجہ سے پیدا ہوں گی اور باقی ساڑھے آٹھ لاکھ نجی شعبہ میں۔ تاہم نجی شعبہ کی ملاممتیں حکومت کیسے پیدا کرے گی اس کی انھوں نے وضاحت نہیں کی۔ ان منصوبوں میں ہائی اسکولوں کی بہتری، زرعی تحقیق اور صنعت کے فروغ کے لیے معاون تعلیمی اداروں کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے۔ پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پچھلے سال اکیس ارب روپے سے تعلیمی اصلاحات کا منصوبہ شروع کردیاگیا تھا جس کےلیے تمام عالمی بینک نے فننڈز منظور کردیے ہیں۔ وزیراعلی نے دعوی کیا کہ اس منصوبہ کے نتیجہ میں صوبہ میں تعلیم مکمل کیے بغیر اسکول چھوڑ جانے والے بچوں کی تعداد کم ہوگئی ہے اور اسکولوں میں داخلہ لینے والوں کی تعداد میں تقریباً سوا پانچ لاکھ بچوں کا اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سال تک پانچ جماعتوں تک مفت نصابی کتابیں دی گئیں تھیں لیکن اگلے سال سے آٹھویں جماعت تک مفت نصابی کتابی دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے تین سال میں مڈل اسکولوں کو ہائی اسکولوں کا درجہ دیا جاۓ گا اور ہائی اسکولوں میں سہولتوںکی کمی کو پورا کرنے کے لیے دو ارب روپے مختص کیے جائیں گے جن سے ان کی عمارت ، اساتذہ اور اساتذہ کی تربیت جیسے کام کیے جائیں گے۔ زراعت کی ترقی کے بارے میں اپنا طویل مدتی منصوبہ پیش کرتے ہوۓ وزیراعلی نے کہا کہ زرعی تحقیق اور زرعی مارکیٹنگ پر زور دیا جاۓ گا اور ہندوستان کے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جاۓ گا اور اس سلسلہ میں وہاں کے ماہرین سے مشترکہ اجلاس کیے گۓ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک آزاد کارپوریشن بنائی جارہی ہے جو کسانوں کی رہنمائی کرے گی تاکہ کسانوں کا منافع آڑھتی اور مڈل مین کو منتقل نہ ہو۔ صنعت کی تری کے لیے پنجاب کے وزیراعلی نے دو اہم اقدامات کا ذکر کیا۔ ایک تو صنعتی شہروں جیسے گجرات، سیالکوٹ، وزیرآباد اور گوجرانوالہ میں صنعتی کارخانوں کو مدد دینے کےلیے انھیں پہلے سے موجود انجینئیرنگ یونیورسٹی سے منسلک کیا جاۓ یا ان علاقوں میں نئی انجئنیرنگ یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی۔ وزیراعلی نے اراضی کی ملکیت کےجھگڑے اور پٹواری کا کردار کم کرنے کےلیے اراضی کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کرنے کا اعلان کیا جو دو سال میں مکمل ہوجاۓ گا۔ انھوں نے مکانات کی صنعت کے فروع کے لیے قانون کرایہ داری میں ترمیم کی بھی بات کی تاکہ مالک مکانوں کو کرایہ نہ ملنے یا مکان پر قبضہ ہوجانے کی شکایت ختم ہوسکے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت ریٹائر ہونے والے ملازمین کو سات ہزار مکانات بنا کر دے گی۔ حکومت لاہور میں نۓ ہوٹلوں کے قیام میں بھی مدد دے گی اور چار ماہ تک مال روڈ پر جی او آر کی اراضی تین بڑے ہوٹلوں کی شاخوں کو نیلام میں دی جاۓ گی۔ قذافی اسٹیم لاہور کے سامنے نوے کنال اراضی میں خوبصورت پارک اور ایک اور فوڈ اسٹیٹ قائم کی جارہی ہے جہاں ایک ملک کا پہلا آئی ایم ایکس تھیٹر بھی بنایا جاۓ گا۔ نیو مری کے نام سے مری کے پاس پر فضا مقام کے قیام کے لیے دریاۓ جہلم کا پانی نۓ شہر اور پرانے مری تک لانے کے منصوبہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔اس پر ایک ارب روپے لاگت آیے گی تحصیل اور ضلع کے سرکاری ہسپتالوں کی بہتری، لاہور میں رنگ روڈ کا قیام اور ملتان میں دل کے خصوصی ہسپتال کا قیام بھی وزیراعلی کےمنصوبوں میں شامل ہے۔ وزیراعلی نے جیلوں میں قیدیوں کے لیے کھانےکی بہتری اور طبی معائنہ اور بے سہارا بچوں کے لیے ادارہ کا قیام کا اعلان بھی کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||