سپیکر کے رویے کے خلاف استعفیٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی نے مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سپیکر کے رویے کے خلاف استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اسلم بھوتانی نے کہا کہ اسمبلی میں ملازمین کی تعیناتی اور دیگر امور میں ان سے صلاح مشورہ نہیں لیا جاتا اور یہاں تک کہ جو تعیناتی ہوئی ہے ان میں بیشتر کا تعلق سپیکر کے اپنے حلقہ انتخاب سے ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر خود فنانس کمیٹی کے سربراہ ہیں جس میں انھوں نے اپنے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد کی مالیت کی گاڑی خریدنے کی سفارش کی تھی جو منظور ہوئی ہے۔ اسلم بھوتانی نے کہا ہے کہ ان کے شور کرنے پر سپیکر نے اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا۔ انھوں نے کہا ہے کہ سپیکر کے پاس پہلے سے مرسیڈیز اور لینڈ کروزر گاڑیاں موجود ہیں۔ اسلم بھوتانی نے کہا کہ انھوں نے حکام کو اس بارے میں مطلع کردیا ہے اور اب بجٹ اجلاس کے بعد وہ تحریری طور پر اپنا استعفی پیش کر دیں گے۔ جب ان سے کہا گیا کہ مسلم لیک کے کچھ اراکین نے پہلے اس طرح وزارتوں سے استعفی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں یا استعفے واپس لے لیے یا تحریری طور پر استعفے پیش ہی نہیں کیے تو انھوں نے کہا کہ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ اور سپیکر ایک ساتھ کام نہیں کر سکتے۔ اس بارے میں سپیکر جمال شاہ سے رابطہ قائم کیا گیا توانہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اسلم بھوتانی ان کے ساتھی ہیں وہ ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس بارے میں مجلس عمل کے دیگر قائدین نے بھی کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ کے وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی استعفی دے کر واپس لے چکے ہیں۔ انھوں نے ظاہری طور پر کہا تھا کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اس لیے مستعفی ہو رہے ہیں جبکہ مبصرین نے کہا ہے کہ ان کے کچھ مطالبات تھے جو وزیرِاعلی نے منظور کرلیے تھے۔ اسی طرح وزیر ثقافت شیر جان بلوچ نے پسنی کے ناظم کی گرفتاری کے خلاف استعفی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک انھوں نے استعفی نہیں دیا بلکہ دونوں وزراء حکومت میں پہلے سے زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||