خاران میں ضمنی انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کی نشست این اے دو سو اکہتر خاران پنجگور پر آج ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں جس میں چار امیدواروں کے مابین مقابلہ ہے۔ یہ نشست متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی مولوی رحمت اللہ کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی ہے۔ اس نشست پر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار حافظ محمد اعظم کے علاوہ حکمران مسلم لیگ کے سردار فتح محمد حسنی اور بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے امیدوار عبدالخالق میدان میں ہیں۔ سردار فتح محمد حسنی پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر تھے لیکن صدر مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ واپسی پر پیپلز پارٹی سے استعفی دے کر مسلم لیگ قائد اعظم میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔ اس کے علاوہ حکمران مسلم لیگ کی حلیف جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے امیدوار بھی مقابلے میں شامل ہیں لیکن مبصرین کے مطابق اصل مقابلہ نیشنل پارٹی کے عبدالخالق مسلم لیگ کے سردار فتح اور مجلس عمل کے حافظ اعظم کے مابین ہو گا۔ تینوں جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے بھر پور کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف کئی روز سے پنجگور اور خاران کے مختلف علاقوں کے دورے کر رہے ہیں اور لوگوں سے ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں۔ بلوچ قوم پرست جماعتیں حکومتی مشینری کے استعمال پر سخت تنقید کر رہی ہیں اور وزیر اعلی کے دعووں کو اس بنیاد پر جھوٹ قرار دے رہی ہیں کہ صوبہ پہلے سے اوور ڈرافٹ پر چل رہا ہے۔ گزشتہ سال کی ترقیاتی سکیمیں فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے ختم کر دی گئیں تو خاران اور پنجگور کے علاقے کو کیا ملے گا۔ متحدہ مجلس عمل کے صوبائی وزرا کئی روز سے پنجگور اور خاران کے علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور اپنے حوالے سے لوگوں سے وعدے وعید کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر اس انتخاب میں کسی قسم کی کوئی دھاندلی نہ کی گئی تو صوبہ بلوچستان کے حوالے سے یہ انتخاب حکومت اور قوم پرست جماعتوں کا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت صوبے کی ترقی کا دعوی کر رہی ہے جبکہ قوم پرست جماعتیں گوادر میگا پراجیکٹ فوجی چھاونیوں کے قیام سمیت دیگر منصوبوں کی مخالفت کر رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||