بلوچستان بجٹ 22 جون کو آئے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان حکومت بائیس جون کو وعدوں اور یقین دہانیوں کا بجٹ پیش کرے گی کیونکہ صوبائی حکومت کا خزانہ خالی ہے۔ قومی مالیاتی کمشن کے اعلان میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے صوبہ بلوچستان کو اگلے مالی سال کے لیے بجٹ تیار کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے گیارہ ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ بجٹ تیار کریں مرکز مالی معاونت ضرور کرے گا اب ان وعدوں اور یقین دہانیوں کی بنیاد پر بجٹ تیار کیا جا رہا ہے۔ چاروں صوبوں نے قومی مالیاتی کمیشن کے اعلان کا اختیار صدر جنرل پرویز مشرف کو دے رکھا ہے ۔ مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود انھیں یہ توقع ہے کہ صدر مشرف بلوچستان کے بارے میں بہتر فیصلہ کریں گے کیونکہ انھوں نے بلوچستان کے مسائل کو سمجھا ہے اور اس بارے میں فکر مند ہیں۔ بلوچستان سرحد اور سندھ خالصتاً آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ پنجاب آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا حامی ہے۔ اس تقسیم کے حساب سے پنجاب کو ساٹھ فیصد اور بلوچستان کو صرف پانچ فیصد وسائل مہیا ہوتے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کا اعلان ہر پانچ سال بعد ہونا ہوتا ہے لیکن انیس سو ستانوے میں عبوری حکومت کے پیش کردہ اعلان کے بعد اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض نہیں کریں گے او ر ایک مرتبہ پھر پنجاب کی منشا کے مطابق کمیشن کا اعلان ہو گا۔ بلوچستان حکومت گزشتہ اڑھائی سال میں کوئی بارہ ارب روپے اوور ڈرافٹ کی مد میں سٹیٹ بینک سے لے چکی ہے جسے اب نرم شرائط پر مبنی قرضے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع کے مطابق جن امور پر صوبوں میں اتفاق پایا جاتا ہے اس کے تحت بلوچستان کو اس مرتبہ بیالیس سے تریالیس ارب روپے جو اس کا اپنا حق ہے ملنے کی توقع ہے جس سے کسی حد تک مسائل حل ہو سکیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||