BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 May, 2005, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساڑھے چھ ارب ڈالر کا خسارہ؟

تجارتی خسسارہ درآمدات میں اضافہ کی وجہ سے ہوا
تجارتی خسارہ درآمدات میں اضافہ کی وجہ سے ہوا
گورنر اسٹیٹ بنک آف پاکستان گورنر عشرت حسین نے کہا ہے کہ ملک میں اس سال ساڑھے چھ ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا تب بھی حکومت اسے پورا کر لے گی تاہم خسارہ کے صحیح اعداد و شمار اگلے ہفتہ بنک کی سہ ماہی رپورٹ میں سامنے آجائیں گے۔

عشرت حسین سے پوچھا گیا تھا کہ اس سال ساڑھے چھ ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہورہا ہے تو انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی اور تفصیل بتائی کہ حکومت اسے کس طرح پورا کرے گی۔ وہ لاہورمیں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو چار ارب ڈالر بیرون ملک سے بھیجے جانے والی رقوم کی ترسیلات سے ملیں گے، ایک ارب ڈالر کی براہ راست بیرون ملک سرمایہ کاری سے ملیں گے اور باقی ایک ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ سے لیے جائیں گے۔

گورنر عشت حسین نے کہا کہ اس خسارہ کی وجہ یہ ہے کہ اس سال چودہ ارب ڈالر کی درآمدات ہوئی ہیں جن میں سے تقریباً بیالیس فیصد مشینری درآمد کرنے پر خرچ ہوا ہے۔

عشرت حسین نے کہا کہ مشینری کی درآمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں صنعتی مصنوعات کی تیاری (مینوفیکچرنگ) پر سرمایہ کاری ہورہی ہے اس شعبہ کی توسیع ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ملک میں سرمایہ کاری میں بائیس فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔

News image
پاکستان کے صنعتی شعبہ میں سرمایہ کار حوصلہ افزا رہی

گونر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ گزشتہ سال ملک میں ساڑھے تین سو ارب روپے کے قرضے (کریڈٹ) بینکوں نے تقسیم کیے تھے اور اگر اس سال بھی اتنے ہی قرضے جاری ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ دو برسوں میں سات سو ارب روپے تقسیم ہوئے جو بارہ ارب ڈالر کی رقم بنتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ساڑھے تین سو ارب کے قرضوں میں سے پینتالیس فیصد مینوفیکچرنگ کو دیے گئے، تئیس فیصد درمیانی اور چھوٹی صنعتوں، تقریبا چودہ فیصد زرعی شعبہ اور دس فیصد کنزیومر فائنانس کے لیے دیے گئے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ملک کی معیشت کے دو اہم ستون ہیں۔ ایک زرعی شعبہ اور دوسرے درمیانی اور چھوٹی صنعتیں۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ زرعی شعبہ کو دیے جانے والے قرضوں کا ستر فیصد درمیانہ اور چھوٹے کاشتکاروں کو جارہا ہے جن کی زمین ساڑھے بارہ ایکڑ تک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے کمرشل بنک زرعی شعبہ کو قرضے فراہم کرنے میں بہت سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قرضوں کی واپسی کی شرح پچانوے فیصد ہے اور ان قرضوں کا تقریبا بیالیس فیصد کھاد خریدنے کے لیے دیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ زرعی شعبہ کے لیے قرضے دینے کا ہدف اگلے سال میں بڑھا کر سو ارب کردیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ حکومت درمیانی اور چھوٹی (ایس ایم ای) صنعتوں پر توجہ دے رہی ہے اور ان کے لیے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کا کام شروع کردیاگیا ہے اور اس شعبہ کے لیے قرضوں (کریڈٹ) کا ہدف اس سال تک مقرر کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے درمیانی اور چھوٹی صنعتوں کی کی ترقی کے لیے ایک کانفرنس منعقد کی ہے اور اس شعبہ کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

عشرت حسین نے کہا کہ ملک میں بینکوں کی ڈھائی ہزار شاخیں آن لائن ہیں اور اس سال دسمبر تک ان کی تعداد بڑھ کر پانچ ہزار ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بینکوں کی آٹھ سو سے زیادہ اے ٹی ایم مشینیں کام کررہی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پانچ ہزار کا کرنسی نوٹ اس سال چودہ اگست یا پچیس دسمبر تک جاری کردیا جائے گا اور اس نوٹ پر صدر جنرل پرویز مشرف کی تصویر شائع نہیں کی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد