BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 June, 2005, 11:22 GMT 16:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاشی ترقی کا واہمہ

News image
حالیہ اندازوں کے مطابق ملک میں افراطِ زر گیارہ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔
متحدہ مجلس عمل نے ماہرِ معیشت اور بینکر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی ملکی معیشت پر ایک کتاب شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات سے پاکستان میں جو معاشی ہنی مون کا دور شروع ہوا تھا وہ ختم ہوگیا ہے اور ملکی معیشت زوال کی طرف جا رہی ہے۔

پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام، حقیقت یا واہمہ کے نام سے اس کتاب کی تقریب رونمائی آج دوپہر لاہورمیں جماعت اسلامی کے زیراہتمام منعقد ہوئی جس میں مصنف نے اپنی کتاب کا خلاصہ بھی پیش کیا۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ملک میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے حوالہ پر پابندی کے بعد چودہ ارب ڈالر کی رقوم بنکوں کے ذریعے ملک میں منتقل کیں جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اضافہ کاتعلق حکومت کی معاشی پالیسیوں سے نہیں ہے جس کا وہ دعوی کرتے ہیں۔

ماہر میعشت نے کہا کہ امریکہ نے گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد پاکستان کو دو ارب ڈالر کی مالی امداد دی اور عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کے قرضوں کی اگلے اڑتیس برسوں کے لیے ان کی ری شیڈولنگ کردی جس سے بھی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے۔

تاہم ماہرمعیشت نے کہا کہ بیرون ملک سے جو چودہ ارب ڈالر ملک میں آئے وہ پیداواری شعبہ میں نہیں لگے بلکہ اسٹاک مارکٹ اور شہری جائداد کی خرید میں لگ گئے۔

شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ گیارہ ستمبر کے بعد کا ہنی مون اب ختم ہوگیا ہے اور ملکی معیشت پر زوال نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ میں اسٹاک مارکیٹ بری طرح گری جس سے ستائیس مئی تک صرف دو ماہ میں مارکیٹ کی سرمایہ میں نو سو ترانوے ارب روپے کا نقصان ہوا اور اس سے متوسط طبقہ کو اور بیرون ملک پاکستانیوں کو نقصان ہوا۔

ماہر معیشت نے کہا کہ جنرل مشرف کو ورثے میں تقریبا پونے چھ فیصد شرح سے افراط زر ملی تھی لیکن آج یہ گیارہ فیصد سے بڑھ گئی ہے اور تجارتی خسارہ گزشتہ دو برسوں میں ساڑھے آٹھ ارب ڈالر ہوگیا ہے جو تاریخ کا ایک ریکارڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جی ڈی پی اور ٹیکس وصولی کی شرح تناسب کم ہوئی ہے اور اس بات کو سی بی آر نے تسلیم کیا ہے اور وزیر مملکت برائے خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ سی بی آر ٹیکسوں کی وصولی میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکا۔

ماہر معیشت نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ملکی اوربیرون ملک سے لیے گئے دونوں طرح کے قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے تو جان چھڑا لی لیکن ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے ریکارڈ مالیت کے قرضے لیے۔ ان کا دعوی تھا کہ ملک کی پوری معیشت قرضوں کے گرد گھوم رہی ہے جبکہ اسے سرمایہ کاری پر قائم ہونا چاہیے۔

ماہر معیشت کا کہنا تھا کہ بنک بڑے بڑے امیر لوگوں کے فائدہ کے لیے عام کھاتے داروں کو اور منفی میں منافع دے کر نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بنکوں کے دو کروڑ چوراسی لاکھ کھاتے دار ہیں جنہوں نے بنکوں میں چوبیس سو ارب روپے جمع کرائے ہوئے ہیں۔ان کے بقول بنکوں نے ساڑھے چھ ہزار سرمایہ داروں کو سینکڑوں ارب روپے کے قرضے دیے اور ان سے جو مارک اپ کی شرح وصول کی وہ افراط زر کی شرح سے کم تھی یعنی ان سے کم پیسہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف بنکوں نے اپنے کھاتے داروں کو جو شرح منافع دی وہ بھی افراط زر سے کم تھی یعنی انہیں کم پیسے دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ میں سب سے کم منافع ہے جو بنکوں نے اپنے کھاتے داروں کو دیا۔

ماہر معیشت نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالہ سے دعوی کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں بنکوں کے کھاتے داروں کی تعداد پچاس لاکھ کم ہوگئی ہے جس سے بچتوں کی حوصلہ شکنی ہوئی اور معاشی ڈاکومینٹیشن کی حوصلہ شکنی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بنکوں نے پچھلے دو برسوں میں سات سو ارب روپے کے قرضے دیے جبکہ اس سے پہلے دس برسوں میں اتنی مالیت کے قرضے دیے گئے تھے اور خدشہ ہے کہ یہ قرضے وصول نہیں ہوپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقہ کو اشیائے صرف کے لیے جو قرضے دیے گئے ہیں ان کا واپس ملنا مشکل ہوگا۔

ماہر معیشت نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بنک نے کہا ہے کہ پاکستان میں بنکوں کا شعبے بحران سے دوچار ہوسکتا ہے اور پھنسے ہوئے قرضوں سے متعلق اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعداد و شمار غلط ہیں۔

ماہر معیشت نے کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز کے دعووں کے برعکس عالمی بنک کے صدر نے کہا ہے کہ گزشتہ دو سال میں پاکستان میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور پچیس ملکوں کی یورپین یونین نے کہا ہے کہ پاکستان حکومت کی معیشت کی خوشنما رپورٹیں درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بنک کے چیف اکنامسٹ نے کہا ہے کہ پاکستان میں غربت بڑھنےکی وجہ دولت کی نامساوی تقسیم ہے اور حکومت کے اعداد و شمار مشکوک ہیں۔

ماہر معیشت نے کہا کہ ملک میں سماجی ترقی پر پچھلے پانچ برسوں میں گیارہ سو ارب روپے خرچ کیے گئے لیکن ان کا دعوی تھا کہ اس رقم کا اسی فیصد عوام تک نہیں پہنچا اور اس کے اثرات نظر نہیں آتے کیونکہ ہمارے ملک میں وسائل کی تقسیم منصفانہ نہیں۔ ماہر معیشت نے کہا کہ اگر پاکستان کی جی ڈی پی (معاشی ترقی) میں دس فیصد کا اضافہ ہو تو ملک کے سب سے غریب دس فیصد لوگوں تک اس ترقی میں سے اعشاریہ پچیس فیصد حصہ پہنچتا ہے۔

ماہر معیشت نے کہا کہ بھارت کی معاشی ترقی کی رفتار پاکستان سے زیادہ ہے اور وہ خود کفالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بھارت میں مزدور کو پینتیس روپے فی گھنٹہ اجرت ملتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ اجرت پچیس روپے فی گھنٹہ ہے۔

ماہر معیشت کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف نے اپنے دور میں معاشی ترقی کو اور ماضی میں خراب معیشت کو ثابت کرنے کے لیے غلط اعداد وشمار پیش کیے جن کی بہت سی مثالیں انہوں نے پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر یہ بات غلط ہے کہ جب مشرف اقتدار میں آئے تو پبلک سیکٹر کے سارے ادارے نقصان میں تھے یا یونائٹڈ بنک نے یس برسوں میں کبھی منافع نہیں کمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ادارے جیسے پی ٹی سی ایل وغیرہ منافع میں تھے اور یونائیٹڈ بنک نے بیس میں سے سترہ برسوں میں منافع کمایا تھا۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ پاکستان نے فرنٹ لائن ریاست کا جو کردار اختیار کیا اس وجہ سے ملک میں بدامنی ہے اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری نہیں آرہی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک میں دس لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کی پندرہ ارب ڈالر کی بچتیں ہیں جن کا پچیس فیصد بھی پاکستان میں پیداواری شعبہ میں لگ جائے تو ملک میں پائیدار معاشی ترقی ہوسکتی ہے اور عالمی بنک سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ماہر معیشت نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکومت کی معاشی پالیسی بدلنے، کرپشن کے خاتمے، ٹیکسوں کی وصولی کو بہتر بنانے اور تعلیم اور صحت کے شعبوں پر اخراجات میں اضافہ کی تجاویز دیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد