BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 May, 2005, 23:36 GMT 04:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افراط زر11 فیصد سے تجاوز کرگی

فائل فوٹو
گزشتہ دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ شرح نمو آٹھ فیصد تک ہنچی ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےامید ظاہر کی ہے کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کی شرحِ نمو رواں مالی سال کے اختتام پر آٹھ فی صد کے لگائے گئے اندازوں سے تجاوز کر جائے گی۔

پیر کو جاری کی گئی اپنی تیسری سہ ماہی رپورٹ میں بینک نے شرحِ نمو کو خوش آئند مانتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ ملکی معیشت میں افراطِ زر کا دباؤ عروج پر ہے اور اگر اسے قابو میں نہ کیا گیا تو نہ صرف یہ کہ معیشت میں افراطِ زر کی شرح کی مد میں لگائے گئے اندازوں سے بڑھ جائے گا بلکہ طویل المیعاد ترقی پر بھی اپنے اثرات مرتب کرے گا۔

بینک کا کہنا ہے کہ اب یہ پالیسی سازوں کے لیے چیلنج ہے کہ وہ آنے والے سالوں میں ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھیں جو بڑھتے ہوئے افراطِ زر کی وجہ سے مشکل تر ہو سکتی ہے۔ بینک کےمطابق معیشت پر رسد اور طلب دونوں کے دباؤ افراطِ زر میں اضافہ کی وجہ ہیں۔

پچھلے ہفتہ جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق افراطِ زر کی موجودہ شرح گیارہ اعشاریہ پچیس فی صد ہوگئی ہے جو پچھلے مارچ میں دس اعشاریہ پچیس فی صد تھی جس کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کو اپنی بچت کی قیمتوں میں ساڑھے سات فی صد سے دس فی صد اضافہ کرنا پڑا تھا۔

مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ اس حوالے سے اہم ثابت ہوں گےجس میں دیکھا جائے کہ آیا افراطِ زر کا دباؤ کم ہوتا ہے کہ نہیں اوریہ بھی کہ آیا نجی شعبہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی شرحِ سود پر بینکوں سے قرضہ لینے کی طلب کیسی رہتی ہے۔

مرکزی بینک گوکہ اپنے سات اعشاریہ چار سے لے کر سات اعشاریہ آٹھ فی صد شرحِ نمو کے دعوے پر قائم ہے مگر تیس جون تک رواں مالی سال کے اختتام پر اس کے خیال میں اس سال ہونے والی اصل شرحِ نمو اندازوں سے بڑھ ہوگی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اس رپورٹ کے یہ تبصرے حکومتی خواہشات کے عین مطابق ہیں جس کے حوالے سے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے مجموعی قومی پیداوار میں آٹھ اعشاریہ تین پانچ کی شرحِ سے اضافہ متوقع بتایا ہےجوپچھلی دو دہائیوں میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہوگا۔

اسٹیٹ بینک نے امید ظاہر کی کہ پچھلے سال کے بر خلاف اس سال شرحِ نمو سے معیشت کے تمام شعبے استفادہ کریں گے جبکہ دوسری جانب صرف گندم اور کپاس کی پیداوار میں اضافہ زرعی شعبہ کی شرحِ نمو کی بڑی وجہ ہے واضح رہے کہ پچھلے سال صرف زرعی شعبہ میں دو اعشاریہ چھ فی صد کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں صرف رواں سال کے اختتام پر گندم کی ریکارڈ اکیس اعشاریہ چار ملین میٹرک ٹن فصل متوقع ہےجبکہ کپاس کی پیداوار چودہ اعشاریہ چھ ملین گانٹھوں پر مشتمل ہونے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد