پاکستان کی شرح نمو آٹھ فیصد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی ترقی کی شرح آٹھ اعشاریہ تین فیصد سے زائد ہو گئی ہے جو اس سال کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سال کا ہدف ساڑھے چھ فیصد سے زائد تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سال پاکستان معیشت میں ترقی کے اعتبار سے ایشیاء کے پہلے پانچ ملکوں میں ہو سکتا ہے۔ منگل کو ’پلان کوآرڈینیشن کمیٹی‘ کے اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ معیشت کی بہتری کا جو سفر چھ برس قبل شروع کیا گیا تھا اس کے نتائج سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ترقی کی شرح سات فیصد سے اوپر چلی گئی ہے جس کی بڑی وجہ گندم اور کپاس کی بہترین فصل کا ہونا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق اگر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہوتا تو پاکستان کی ترقی کی شرح مذید بڑھ جاتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی ترقی سے لوگوں کو روزگار کے زیادہ مواقع ملیں گے اور غربت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اٹھون سالوں میں پانچویں دفعہ پاکستان کی معیشت کی ترقی کی شرح آٹھ فیصد سے اوپر گئی ہے۔ اس اجلاس کے بعد وزیر اعظم نے ٹیلی کام کے دن کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک تقریب سے بھی خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موبائل اور ٹیلیفون استعمال کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر گی ہے اور ان کے مطابق اگلے تین سال میں یہ تعداد دگنی ہو جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||