BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 May, 2005, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وفاق حکومت ساہوکار ہو گئی

News image
پاکستان کے چاروں صوبوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بینکوں سے سستی اور آسان شرائط پر قرضے لیکر وفاقی حکومت کے مہنگے قرضوں کی ادائیگی کی اجازت دی جائے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے صوبوں کو دیئے گئے ترقیاتی قرضوں ( جنہیں تکنیکی زبان میں کیش ڈیوپلمنٹ لون کہا جاتا ہے ) کی مالیت 137 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

جس پر صوبوں کو سترہ اور اٹھارہ فی صد سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی حکومت نے مختلف ادوار میں صوبوں کو یہ قرضے دیئے تھے۔

بلوچستان کے وزیر خزانہ سید احسان شاہ کے مطابق اگر وفاق صوبوں کو قرضے لینے کے اختیارات دیدے تو وہ وفاقی حکومت کے مہنگے قرضے کمرشل مارکیٹ سے کم شرح سود والے قرضوں سے ادائیگی کر سکتے ہیں اور اس طرح صوبوں کو مجموعی طور پر کئی ارب روپے کی بچت ہو گی جس سے صوبائی حکومتیں عوام کی فلاح اور تعمیر و ترقی کے منصوبے شروع کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ذمہ وفاقی حکومت کے قرضوں کی مالیت تیس اور پینتیس ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔

صوبے اس وقت مارکیٹ کی صورتحال کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جس میں بینک چار سے چھ فی صد تک شرح منافع (سود) پر قرضے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں چاروں صوبوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر صدر مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز سے بھی بات چیت کی ہے اور وفاقی قرضوں کی ادائیگی میں سہولت اور صوبوں کی بینکنگ سیکٹر سے قرضے لینے کے اختیارات کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار کے مطابق چاروں صوبوں نے مشترکہ طور پر وزیر اعظم شوکت عزیز سے کچھ روز قبل اس معاملے کو اٹھایا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تصفیے کے ساتھ ساتھ قرضوں کی ادائیگی میں سہولت سے انکی مالی مشکلات کا ازالہ ہو گا تاہم وزیر اعظم نے صوبوں کو اس سلسلے میں کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔

تاہم وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور مالی امور ڈاکٹر سلمان شاہ سے جب رابطہ کیا گیا توانہوں نے کہا کہ صوبوں کا مطالبہ ماننے سے وفاقی حکومت کا اپنا بجٹ متاثر ہو گا کیونکہ ایک خاص رقم قرضوں کی اصل اور منافع کی وصولی کی مد میں حکومت اپنے بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ شامل کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبوں سے قرضوں کی وصولی انہیں شرائط پر کی جائے گی جس پر صوبوں نے یہ قرضے حاصل کیے تھے کیونکہ شرائط میں رو بدل وفاقی حکومت کے لیے مالی مشکلات کا باعث بنے گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کسی مخصوص صوبے کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ایک محدود رقم کے لیے اسکو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پہلے ہی تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں تیزی کی وجہ سے پچاس ارب کے ٹیکسوں کی وصولی میں نقصان برداشت کر رہی ہے جبکہ اسکو 100 ارب کے قریب پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر اضافی خرچہ کرنا پڑا ہے۔ ایسی صورت میں صوبوں کو قرضے لینے کے اختیارات نہیں دیئے جا سکتے۔

پاکستان کے آئین کے مطابق صوبے وفاقی حکومت سے اجازت کے بغیر قرضے نہیں لے سکتے فاقی حکومت نے صوبوں سے قرضوں کی وصولی کی مد میں مالی سال دو ہزار چار اور دو ہزار پانچ کے لیے 30 ارب روپے کی رقم کا تخمینہ لگایا ہے۔

صوبوں کے مطابق ان قرضوں کی ادائیگی صوبوں کے لیے ایک مستقل درد سر کی صورت اختیار کر گئی ہے اور یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ جب نجی شعبے میں قرضے چار سے چھ فی صد کے سود پر مل سکتے ہیں اور ان کو اپنی ہی وفاقی حکومت کو 17/18 فیصد شرح سے قرضے لینے اور دینے پڑتے ہیں۔

سندھ حکومت کے وزیر خزانہ سردار احمد کا کہنا ہے کہ وہ نہیں کہتے کہ وفاقی حکومت یہ قرضے معاف کر دے لیکن شرح سود میں زمینی حقائق سے مطابقت ضروری ہونی چاہیے۔

صوبوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان قرضوں کی یکمشت ادائیگی سستے ریٹ پر ممکن نہیں تو اسکو قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے ایک سسٹم کا حصہ بنایا جائے تاکہ صوبوں کی مالی مشکلات کسی حد تک کم ہو سکیں۔ ذرائع کے مطابق ان قرضوں میں بڑی تعداد ان قرضوں کی ہے جو وفاقی حکومت نے مالیاتی اداروں سے دو سے تین صد کے شرح منافع پر لیے ہیں لیکن بعد ازاں سے صوبوں کو سترہ اٹھارہ فی صد پر دیئے گئے۔

وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار کے مطابق صوبوں کو عالمی بینک اور ایشیائی ترقی بینک سے بلاواسطہ قرضے لینے کے لیے مدد دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس عہدیدار کے مطابق ماضی میں بھی وفاقی حکومت سندھ اور بلوچستان کی مدد کر چکی ہے۔

کچھ عرصہ قبل ان دو صوبوں کی قرضوں کی ادائیگی کے لیے مشکلات اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ انہیں مرکزی بینک سے اوورڈرافٹ لینا پڑتا تھا تاہم وفاقی حکومت نے انہیں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعے تین سے چار ارب روپے کے قرضے آسان شرائط پر وفاقی حکومت کی ضمانت پر دیئے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد