BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 June, 2004, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیروزگاری بڑھ گئی، غربت میں کمی

پاکستان
مجموعی طور پر اچھی اقتصادی حالت بیان کی گئی ہے
پچھلے ایک برس کے دوران پاکستان میں بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ساتھ ہی غربت میں کمی کے بھی اشارے ملے ہیں ـ یہ بات سال 2003-2004 کے بارے میں تیار کیے گئے اقتصادی جائزے میں بتائی گئی ہے۔

اقتصادی سروے میں درج اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان میں بیروزگاروں کی تعداد میں 0.45 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ غربت کی شرح میں 4.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اقتصادی جائزے کی تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت عزیز نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ جون 2004 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران معیشت کے بیشتر شعبوں میں بہتری کا رجحان دیکھنے میں آیا ہےاورتقریباً تمام اہم معاشی اہداف کو نہ صرف حاصل کیا ہے بلکہ کامیابی کی شرح طے شدہ اہداف سے بھی ذیادہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں بار آور ثابت ہو رہی ہیں۔

وزیرخزانہ نے بتایا کے حکومتی سطح پر ہونے والے ایک سروے کے مطابق غربت میں اضافے کا رجحان نہ صرف یہ کہ رک گیا ہے بلکہ حالیہ عرصے میں غربت میں کمی بھی واقع ہوئی ہے ـ اپنے اس دعوے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نمونے کے طور پر پاکستان کے چندعلاقوں میں ہونے والے سروے کے مطابق غربت کی شرح میں اس دوران 4.5 کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تاہم اقتصادی جائزے کے مطابق اسی عرصہ کے دوران بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو7.82 سے بڑھ کر8.27 ہو گئی جبکہ اس دوران آّٹھ لاکھ افراد کو روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے۔

شوکت عزیز نے بتایا کہ اس سال کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح میں پچھلے سال کی نسبت نمایاں اضافہ ہوا ہے ـ پچھلے سال یہ شرح 5.1 فیصد تھی جبکے تازہ ترین اعداد کے مطابق اس کی شرح 6.4 فیصد رہی جو5.3 فیصد کے مقرر کردہ ہدف سے بھی ذیادہ ہے۔

اسی طرح اقتصادی جائزے کے مطابق صنعتی شعبے میں ترقی کی شرح میں 13.4 فیصد اور فی کس آمدنی میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔

تاہم زراعت نے اس سال کے دوران خاصی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مجموعی ملکی پیداوار کے مقابلے میں اس کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہو کر 2.8 فیصد رہ گئی۔ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اس شعبے کی اس ناقص کارکردگی کی ذمہ داری وزیرخزانہ نے موسمی اثرات اور کیڑوں پر عائد کی جن کے حملوں کے باعث ملک کی دو بڑی فصلیں ، گندم اور کپاس خاصی متاثر ہوئی تھیں۔

اقتصادی جائزے کے مطابق اس سال کے دوران کھانے پینے کی اشیا خصوصاً گوشت ، آٹے ، تیل، چاول اور پیاز کی قیمتوں میں گرانی کے باعث افراط زر کی شرح میں0.6 اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 3.3 فیصد سے بڑھ کر 3.9 فیصد ہو گیا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پچھلے سالوں کی طرح اس برس بھی حکومت نے اپنے اخراجات کو مناسب حدود میں رکھا اور اس سال آمدن اور اخراجات کے توازن میں صرف تیرہ ارب روپے کا فرق رہ گیا ہے جو چند سال پہلے تک 76 ارب روپے تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد