BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 May, 2005, 16:21 GMT 21:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ اگلے چند ہفتے اہم ہوں گے‘ بیگ

News image
اسلم بیگ کے مطابق عوام بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ ہیں۔
پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف اور عوامی قیادت پارٹی کے چئرمین مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے اگلے چند ہفتے بہت اہم ہیں جن میں صدر جنرل پرویز مشرف کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا موجودہ لوگ ہی اقتدار میں رہیں یا وہ لوگ اقتدار میں لائے جائیں جنہیں عوام اقتدار میں لانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے لیے یہ مشکل صورتحال ہے اور اگلے چند ہفتوں میں انہیں اہم فیصلہ کرنا ہیں۔اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ عوام بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ ہیں اور جنرل مشرف کو ان دونوں سے بات کرنا پڑے گی۔

اسلم بیگ نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت تبدیل کرکے نئی مخلوط حکومت بنانے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی ہے۔

مرزا اسلم بیگ آج لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے کوشش کی کہ پیپلزپارٹی کی قیادت آصف زرداری کے پاس چلی جائے اور مسلم لیگ (ن) کی شہباز شریف کے پاس لیکن ان کی پارٹیوں نے نئی قیادت قبول نہیں کی۔

مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ جنرل مشرف کا منصوبہ تھا کہ شہباز شریف، آصف زرداری، پیپلزپارٹی پیٹریاٹ اور مسلم لیگ (ق) کے لبرل خیالات کے اراکین کو ملا کر ایک حکومت بنائی جائے جو موجودہ حکومت کی نسبت مستحکم ہو۔

اسلم بیگ نے کہا کہ جنرل مشرف کو اس منصوبہ کی ناکامی کے بعد یہ حکمت عملی بنانی ہے کہ ایسا سیاسی نظام کیسے بنایا جائے جو ان کی غیرموجودگی میں بھی قائم رہ سکے۔

اسلم بیگ نے کہا کہ جنرل مشرف اس لیے ایسا کرنا چاہتے تھے کیونکہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ موجودہ سیاسی نطام اتنا غیرمستحکم ہے کہ اگر مشرف چلے جائیں تو یہ نظام قائم نہیں رہ سکے گا اور مذہبی انتہا پسند اقتدار میں آسکتے ہیں اور پاکستان کے ایٹمی اثاثے اُن کے ہاتھ میں جاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس ان خیالات کا اظہار کرچکی ہیں اور یہ بھی کہا جاچکا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ میں آجانے کی صورت میں انہیں ختم کرنے کے لیے ایک ہنگامی پروگرام بھی تیار رکھا ہوا ہے۔

اسلم بیگ نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی سیاست کے تمام بُت گرچکے ہیں اور صرف ایک بُت صحیح سالم ہے اور وہ جنرل پرویزمشرف ہیں جنہیں ان کے بقول امریکہ کی آشیرواد حاصل ہے۔

اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ علاقہ میں ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جن کے پاکستان کی سیاست پر اثرات مرتب ہوں گے اور ان میں ایران اور ازبکستان کے حالات خاص طور پر اہم ہیں۔

اسلم بیگ نے علاقائی حالات کا اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے کی بجائے وہاں حکومت کی تبدیلی کی بات کی ہے اور ازبکستان میں امریکہ کے چہیتے حکمران اسلام کریموف کے خلاف عوام نے مزاحمت کی تو امریکہ کی تربیت یافتہ فوج نےکئی سو مزاحمت کارروں کو ہلاک کردیا جس کا ردعمل کسی بھی وقت متوقع ہے ۔

اسلم بیگ کا موقف تھا کہ پاکستان میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں آتی اور امریکہ پاکستان میں کوئی پر تشدد تبدیلی نہیں چاہتا بلکہ موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی لانا چاہتا ہے۔

اسلم بیگ نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین کو حکمران مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹانےکی کوشش کی گئی تھی اور وقتی طور پر یہ کامیاب نہیں ہوسکی لیکن حکمران مسلم لیگ میں اختلافات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی حکومتوں کے انتخابات میں اپنی مرضی کےلوگوں کومنتخب کرانے کے لیے ناظموں کی جگہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کر رہی ہے تاکہ مقامی حکومتوں میں منتخب ہونے والے لوگ اگلے عام انتخابات میں حکومت کے پسند کے امیدواروں کو جتوا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منفی ہتھکنڈے ہیں اور ان کے غلط نتائج نکلیں گے۔

اسلم بیگ نے کہا کہ کچھ پارٹیاں ان مقامی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گی اور کچھ احتجاج کریں گی اور عوام ان کے نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد