BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 November, 2003, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ جرنیلوں کی عادت بن گئی ہے‘
مولانا فضل الرحمٰن وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی کے ہمراہ
حکومتی فیصلے کا کوئی جواز نہیں: فضل الرحمٰن

متحدہ مجلسِ عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ مذہبی جماعتوں پر پابندی بلا جواز ہے اور مجلسِ عمل حکومت کے اس فیصلے کو اہمیت نہیں دے گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو اس وقت بھی حکومت نے مذہبی جماعتوں پر پابندی لگائی تھی۔لیکن اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہو سکا تھا۔

’ان ہی تنظیموں کے لوگوں نے انتخابات میں حصہ بھی لیا اور ان میں سے کئی افراد اسمبلی میں بھی آئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان حالات میں اس قسم کی پابندیوں کا کوئی جواز ہے۔‘

اس سوال کے جواب پر کہ حکومت نے اتحاد میں شامل اسلامی تحریکِ پاکستان کو بھی ان جماعتوں میں شامل کیا ہے جن پر پابندی لگائی گئی ہے جمیعتِ علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہم اس حکومتی فیصلے کو اہمیت نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے جرنیلوں کی یہ عادت سی بن گئی ہے کہ جس کو امریکہ دہشت گرد کہے وہ اسے دہشت گرد کہیں گے اور جس کو امریکہ مجاہد یا فرقہ پرست کہے وہ اسے مجاہد یا فرقہ پرست کہیں گے۔ ہم لکیر کے فقیر نہیں ہیں اور ہم اپنے فیصلے خود کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ پیر کراچی میں متحدہ مجلسِ عمل کا اجلاس ہو رہا ہے اور اس میں موجودہ صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ حکومتی ادارے پہلے اس طرح کی جماعتوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو ان پر پابندی لگا دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے سنیچر کو جیش محمد اور سپاہِ صحابہ سمیت ان تین تنظیموں کو ممنوعہ قرار دے دیا ہے جو نام بدل کر کام کر رہی تھیں۔

پابندی کا یہ فیصلہ امن و امان کے سلسلے میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت صدر جنرل پرویز مشرف نے کی اور جس میں وزیراعظم ظفر اللہ جمالی بھی شریک تھے۔

ان تنظیموں پر پابندی انیس سو ستانوے کے انسداد ِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے۔

جن تنظیموں پر پابندی لگائی گئی ہے ان کے بارے بتایا گیا ہے کہ ان میں سابق تحریکِ جعفریہ پاکستان اب اسلامی تحریکِ پاکستان کے نام سے کام کر رہی تھی۔

جب کہ سپاہِ صحابہ پاکستان نے ملتِ اسلامیہ پاکستان کا نام اختیار کر لیا تھا اور خدامِ اسلام کے نام سے کام کرنے والی تنظیم دراصل سابق جیشِ محمد کی بدلی ہوئی شکل ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی حکومت نے ایک اور تنظیم جماعت الدعوۃ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کہ یہ تنظیم پہلے لشکرِ طیبہ کے نام سے کام کرتی تھی اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح سرگرمیوں کے لیے کھلے عام دعوت دیتی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد