’اشارے پرواپس جاسکتی ہوں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ اگر انہیں فوج سے ’صحیح اشارے‘ ملیں یا امریکہ فوج پر دباؤ ڈالے تو وہ ملک واپس جانے کے لئے تیار ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی پارٹی انہیں یہ بتائے کہ اب ملک میں حالات سازگار ہیں تو بھی وہ پاکستان واپس جانے کے لئے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو فوراً واپس جانا چاہتی ہیں لیکن بقول ان کے پاکستان میں انہیں انصاف کی توقع نہیں ہے۔ بے نظیر بھٹو نے ڈاکٹر قدیر خان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا حکومتی احکامات کے اندر رہتے ہوئے کیا اور اس معاملے میں پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے فوج اور اپنے آپ کو بچاتے ہوئے سب الزام ڈاکٹر قدیر پر عائد کر دیا۔ بے نظیر بھٹو نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کروانے کی ضرورت ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں جوہری تنازعہ کا اصل ذمہ دار کون ہے تو انہوں نے جنرل مشرف کا نام لیا اور کہا کہ فوج کے سربراہ کی حیثیت میں وہ ذمہ دار ہیں۔ جب بے نظیر بھٹو کو وفاقی وزیرِ اعلاعات شیخ رشید احمد کے یہ الفاظ سنائے گئے کہ ’ بے نظیر بھٹو بھٹو کی بیان بازیاں اقتدار کی بھوک کا نتیجہ ہیں، انہیں واقعات سے آگاہی نہیں ہے اور وہ ہندوستان میں کچھ، امریکہ میں کچھ جبکہ لندن میں کچھ اور بات کرتی ہیں‘ تو سابق وزیرِ اعظم نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا۔ بے نظیر بھٹو نے کہا: ’شیخ رشید تو مارشل لا کے نوکر ہیں، جنرل پرویز مشرف کے نوکر ہیں یہ اور کہہ بھی کیا سکتے ہیں۔ انہیں تو اپنی نوکری بچانی ہے۔‘ پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن نے اس الزام سے انکار کیا کہ وہ سیاسی مفاد کے لئے جوہری مسئلہ کو اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ عین ممکن ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان سے اعترافی یا اقبالی بیان دلوایا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عدالتوں تک یہ بات لائی گئی ہے کہ جسمانی اور ذہنی تشدد کے ذریعے لوگوں سے جبراً مرضی کے بیانات دلوائے گئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر قدیر خان کو حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی ایک شخصی جماعت ہے جوملک میں ان کی غیر موجودگی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||