BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2003, 09:57 GMT 14:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیوں نہ فوجیوں کو آزما لیں: بھٹو

بے نظیر بھٹو سیمینار میں شرکت کے لئے دہلی گئی ہیں

پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو تعلقات بحال کرنے کا جو نیا موقع ملا ہے وہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی فوجی حکومت ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے جو اعلان کر رہی ہے انہیں عملی جامہ پہنائے جبکہ بھارت کشمیر میں شدت پسندوں کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کرے تاکہ تشدد میں کمی آئے، وہاں بھارتی فوج کی تعداد گھٹ جائے، کشمیری سکون کا سانس لیں اور پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتری کے راستے پر چل پڑیں۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے زیرِ اہتمام جنوبی ایشیا میں امن کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے کہا کہ پاک و ہند تناظر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں ملکوں میں جب بھی جنگ ہوئی ہے یا دونوں جنگ کے قریب آئے اس وقت ایک ملک (پاکستان) میں جمہوری نہیں بلکہ فوجی حکومت تھی۔

بے نظیر بھٹو ہندوستان کیوں گئیں؟

 ہندوستان جانے کا فیصلہ سیاسی وجوہات کے باعث مشکل تھا۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لئے اگر میں کچھ کر سکوں تو سودا بُرا نہیں ہوگا۔

بے نظیر بھٹو

بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان شدت پسندی کو روک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھارت اور پاکستان کو سفری رابطے بڑھانے چاہئیں اور ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہیے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شدت پسندی کا کوئی بھی عمل دونوں ملکوں کے درمیان اچھی فضا کو اُسی طرح خراب کر سکتا ہے جیسے بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد ہوا تھا۔ شاید اسی لئے پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دیا جا رہا ہے اور ان کے دفتر بند اور ان کے اثاثے منجمد کیے جا رہے ہیں۔

دہلی میں بے نظیر بھٹو نے بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی سے بھی ملاقات کی اور بھارتی وزیرِ اعظم کے دفتر کے ایک ترجمان کے مطابق اٹل بہاری واجپئی اور بے نظیر بھٹو کی ملاقات سیاسی نوعیت کی نہیں تھی۔ ’یہ ملاقات اس لئے ہوئی کہ بے نظیر بھٹو دہلی آئی ہوئی تھیں۔‘

بے نظیر بھٹو نے جو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بھی ہیں، بھارت کے نائب وزیرِ اعظم لال کرشن اڈوانی سے بھی ملاقات کی۔ کھانے پر ہونے والی یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔

سیمینار میں اپنی تقریر میں بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ان کے لئے ہندوستان جا کر اس کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ سیاسی وجوہات کے باعث مشکل تھا۔ ’لیکن پھر میں نے سوچا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لئے اگر میں کچھ کر سکوں تو سودا بُرا نہیں ہوگا۔‘

بے نظیر بھٹو
پاک بھارت کشدیگی اسی وقت انتہا کو پہنچی جب پاکستان میں فوجی حکومتیں تھیں

انہوں نے کہا کہ بس ڈپلومیسی اور آگرہ کانفرنس کی ناکامی کے باوجود بھارتی وزیرِ اعظم نے قابل تعریف حد تک پاکستان سے صلح کی کوشش کی ہے اور بھارت کی جانب سے حال ہی بارہ نکاتی امن پیکج کا اعلان بھی ہوا ہے۔ ’اس وقت پاکستان کے فوجی حکمراں کھلم کھلا کہتے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں۔ تو کیوں نہ انہیں آزمایا جائے۔ اگر وہ غلط کہتے ہیں تو عوام کے سامنے بے نقاب ہو جائیں گے اور اگر وہ صحیح کہتے ہیں تو بھلائی بھی عوام ہی کی ہوگی۔‘

انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اندرونی اختلافات کے باوجود بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی بھارت نے حریت کانفرنس کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور شدت پسندوں کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اعلان ایک اور اعلان پھر کیا جانا چاہیئے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ متنازعہ معاملات پر بھارت اور پاکستان کے موقف مختلف ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دیں۔

انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ ہے لیکن کیا وہ ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ یا چین اور امریکہ کے بیچ تائیوان کی وجہ سے نزع ہے لیکن دونوں کے درمیان تجارتی تعلقات بہت اچھے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے دھمکیاں نہیں ہیں۔ ’تو جب یہ ممالک اختلافی امور کے باوجود آرام سے رہ سکتے ہیں تو پاکستان اور ہندوستان کیوں نہیں رہ سکتے۔‘

فوجی حکمرانوں کو کس لئے آزمائیں؟

 پاکستان کے فوجی حکمراں کھلم کھلا کہتے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں۔ تو کیوں نہ انہیں آزمایا جائے؟ اگر وہ غلط کہتے ہیں تو عوام کے سامنے بے نقاب ہو جائیں گے اور اگر وہ صحیح کہتے ہیں تو بھلائی بھی عوام ہی کی ہوگی۔

بے نظیر بھٹو

ادھر پاکستان سے آئے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفند یار ولی نے بھارت کے وزیرِ خارجہ یشونت سنہا سے ملاقات کی۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے یشونت سنہا نے اسفند یار ولی کو ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی تازہ ترین کوششوں کے بارے میں بریف کیا۔

انہوں نے خطے میں معاشی تعاون کے فروغ اور عوامی سطح پر رابطوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسفند یار ولی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ اپنی جماعت کے روایتی تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ان کی جماعت ایسی سیکولر اورمعتدل جمہورت کی حامی ہے جس میں برداشت بھی ہو۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد