BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 May, 2005, 10:43 GMT 15:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جرنیل سیاست میں ملوث نہ ہوں‘

چودھری نثار
سپییکر نے جرنیلوں اور ججوں کو تنقید سے بالا تر قرار دیا تھا
حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ( نواز) کے قائم مقام صدر چوہدری نثار علی نے قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین کی اس رولنگ کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ میں فوج اور عدلیہ پر تنقید نہیں کی جا سکتی اور ایسا کرنے والا رکن پارلیمنٹ اپنی نشست سے نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور فوج کی طرف سے سیاست اور حکمران مسلم لیگ کے معاملات میں ملوث ہونا غیر آئینی ہے اور اپوزیشن اس غیر آئینی اقدام کے خلاف آواز اٹھاتی رہے گی۔

قومی اسمبلی کے سپیکر نے منگل کو حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کی رکن ناہید خان کے اس تقریر کو حذف کرنے کا حکم دیا تھا جس میں انہوں نے فوج کے خلاف بات کی تھی۔

تاہم مسلم لیگ نواز کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کرنے والے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف تو کوئی کارروائی نہیں کی جاتی مگر جو ان کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام پر تنقید کرتا ہے اس کو غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ اگر صدر جنرل مشرف اور فوج کی طرف سے سیاست میں ملوث ہونے کا مسئلہ غیر آئینی ہے تو حزب اختلاف یہ کام کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ فوج بحیثیت ادارہ سیاست میں ملوث نہیں ہے مگرصدر جنرل پرویز مشرف سمیت چند مخصوص لوگ فوج کو سیاست میں ملوث کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوج سیاست میں ملوث ہو گی تو اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس کے ہاتھ بھی گندے ہوں۔

پی پی پی کی رکن اسمبلی ناہید خان کا کہنا تھا کہ انہوں نےصرف یہ کہاتھا کہ ان چند جرنیلوں کو روکا جائے جو فوج کو سیاست میں ملوث کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے ارکان نا اہلی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

چوہدری نثار نے لاہور میں انسانی حقوق کے تحفظ کی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن کے جلوس پر پولیس کے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مخلوط میراتھن کا شوشہ خود چھوڑا تھا اور اس کے بعد جب غیر سرکاری تنظیموں نے ایسی میراتھن منعقد کرنے کی کوشش کی تو اس کو پولیس کے زور پر رکوایا گیا اور کمیشن کی صدر عاصمہ جہانگیر سمیت کمیشن کی خواتین ارکان کے کپڑے پھاڑے گئے اور ان کو گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد