’ڈاکٹر شیر افگن کا دعویٰ جھوٹ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن کے اس دعوے کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے اپنے شوہر آصف علی زرداری کی رہائی کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کو ایک درجن سے زائد دفعہ ٹیلی فون کئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اسلام آباد آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹ ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ پی پی پی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے صدر مشرف کو ایک دفعہ بھی ٹیلیفون نہیں کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی عام طور پر ایسے دعووں کا جواب نہیں دیتی مگر چونکہ ملک کے اخبارات میں وفاقی وزیر کے اس بیان کو بار بار شائع کیا جا رہا ہے لہذا پی پی پی اس دعوے کی تردید جاری کر رہی ہے۔ پارٹی نے ڈاکٹر شیر افگن کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ایسے بیانات دے کر صدر جنرل پرویز مشرف سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شیر افگن پی پی پی کے ٹکٹ پر انتخابات جیت کر آئے تھے مگر انھوں نے دس سے زائد پارٹی کے ارکان اسمبلی کے ساتھ مل کر پیٹریاٹ نامی گروپ میں شامل ہو کر حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے ایک انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ بینظیر بھٹو نے آصف زرداری کی رہائی کے بعد سے صدر جنرل پرویز مشرف کو ایک درجن سے زائد بار ٹیلی فون کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی پی پی حکومت سے ڈیل کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان میں حکومت اور پی پی پی کے درمیان ڈیل کی خبریں خاصے عرصے سے گردش کر رہی ہیں اور دونوں جانب سے اس بات کا اعتراف کیا جا چکا ہے کہ ان کے درمیان رابطے ہیں۔ گذشتہ برس نومبر میں پی پی پی کے رہنما اور بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری کی آٹھ سال بعد قید سے ضمانت پر رہائی کے بعد حکومت پی پی پی ڈیل مستقل خبروں میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||