’پیپلز پارٹی بھٹک گئی ہے‘ قاضی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ آصف زرداری کا فوج اور سٹیبلشمنٹ سے رابطوں کا کھلم کھلا اعتراف کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما نے کہا کہ فوج کا سیاست میں مداخلت کرنا اور سیاسی جماعتوں کا فوج اور سٹیبلشمنٹ سے رابطے،مذاکرات کرنا اور انہیں سیاست میں شامل کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔ وہ آج جماعت اسلامی کے ہیڈ کواٹر منصورہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر مجلس عمل کے دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ انہوں نے آصف زرداری کے فوج کو ایک حقیقت تسلیم کرنے اور سٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی تصدیق پر مبنی بیان کا حوالہ دیکر کہا کہ ’انہوں نے ایک طرح سے سیاست میں فوج کی مداخلت کو تسلیم کیا ہے‘۔ قاضی نے کہا کہ’ پیپلز پارٹی کا یہ اقدام اس تحریری معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو مخدوم امین فہیم نے مجلس عمل کے ساتھ کیا تھا اور جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کسی بھی مرحلے پر فوج کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہونگے‘۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب اتحاد براۓ بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کے راستے جدا ہوگئے ہیں ؟ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ’پہلے میں مخدوم امین فہیم سے یہ پوچھوں گا کہ انہوں نے معاہدے پر دستخط کس حثیت سے کیے تھے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’مخدوم امین فہیم کو منظر سے ہٹا کر مصنوعی طور پر زرداری کو متعارف کرنا پیپلز پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی جمہوریت کے مستقبل لیے اچھا ہے۔ انہوں نے کہا ’انہیں سیاست میں فوجی مداخلت ناقابل قبول ہے اور اس سے کسی طرح کے مذاکرات نہیں ہونے چاہیے بلکہ فوج کو ہمیشہ کے لیے سیاست سے فارغ کرنے کے لیے مشترکہ جدو جہد کرنی چاہیے۔‘ ماضی میں مجلس عمل کے سترہویں ترمیم پر مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ’ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کو فوج نے توڑ دیا تھا اس لیے اب مجلس عمل فوج یا ان کے کسی نمائندے سے کوئی مذاکرات نہیں کرے گی‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’مجلس عمل فوج سے نہیں بلکہ چودھری شجاعت حسین سے مذاکرات کرتی رہی ہے اور چودھری شجاعت حسین ایک سیاسی آدمی ہیں۔‘ قاضی حسین احمد دو اپریل کی مجلس عمل کی ہڑتال کے روز دل کی تکلف کی وجہ سے ہسپتال داخل ہوگئے تھے اور دل کے بائی پاس آپریشن کے بعد یہ ان کی پہلی پریس کانفرنس تھی۔ انہوں نے صدر مشرف کے بھارت دورے کےموقع پر کشمیر کے بارے میں ان کے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صدرمشرف کا ہندوستانی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ مشترکہ بیان کشمیر کے قومی موقف سے کھلم کھلا انحراف ہے۔ انہوں نے مسٹر سنگھ کے سرحدیں تبدیل نہ ہونے کے بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس بیان کی موجودگی میں صدر مشرف کا یہ کہنا کہ کشمیر کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے ایک دھوکہ ہے اور شکست خوردگی کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر مذاکرات جاری رکھے رکھنا کوئی کامیابی نہیں ہے کشمیر پر مذاکرات تو لیاقت علی خان اور ایوب خان کے دور سے جاری ہیں لیکن ان کا نتیجہ کوئی نہیں نکلتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کور ایشو ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بھارت سے اعتماد بحال نہیں ہوسکتا۔ کشمیر کے سوا دوسرے مسائل پر بات کرنے کا فائدہ بھارت کو پہنچے گا اور کشمیر نظر انداز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی کامیابی نہیں ہے کہ کشمیر کو نظرانداز کرکے بسوں کے آنے جانے کی خوشیاں منائی جائیں۔ انہو ں نے کہا کہ’ اس کا مطلب ہے لائن آف کنٹرول کو سرحد قبول کیا جارہا ہے جو قومی موقف سے انحراف ہے‘۔ انہوں نے خود مختار کشمیر کی بات کو بھی قومی موقف سے انحراف قرار دیا اور کہا کہ ’پاکستانی قوم کا موقف واضح ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب راۓ سےکیا جانا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’صدر مشرف روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا ڈھونڈورا پیٹتے ہیں لیکن ان کی اس روشن خیالی اور لچک کا فائدہ ہمیشہ دشمنوں کو ہی پہنچتا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||