حکومت مخالف تحریک پراتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیراعظم نواز شریف اور متحدہ مجلس عمل کے صدر اور پارلیمانی لیڈر قاضی حسین احمد نے موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانے پر اتفاق کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے علاوہ دیگر قومی اور جمہوری سوچ رکھنے والے رہنماؤں کا اِس ایک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ تاہم اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے صدر مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ ان کا اتحاد اس فیصلے کی توثیق نہیں کر سکتا کیونکے اس فیصلے میں اے آر ڈی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ مسلم لیگ نواز کے دفتر سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤوں نے منگل کو جدہ میں نواز شریف کے گھر پر ملاقات کی اورسیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی اندرونی اور بیرونی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ مسلم لیگی ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملک کی اقتصادی صورتحال کو بھی خطرناک قرار دیا اور بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے اور مسلسل بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور اس کی وجہ سے ہونے والی خودکشیوں کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا گیا۔ دونوں رہنماؤوں نے کہا کہ موجودہ حکمران پاکستان میں جگہ جگہ محاذ کھول رہے ہیں اور فوج اور عوام کو ایک دوسرے کے خلاف لڑانے کے راستے پر چل رہے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے اس موقع پر کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف ایم ایم اے کے ساتھ کئے گئے وعدوں سے پھر گئے ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کی حیثیت سے پیش کیا جس کی کسی بات پر اعتبار کرنا ممکن نہیں رہا۔ ادھرمخدوم امین فہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے سے ایک نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس میں ضروری ہے کہ قاضی حسین احمد سے بات کی جائے جو چند روز میں وطن واپس پہنچیں گے۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ قاضی حسین احمد حج کے لئے سعودی عرب گئے تھے جہاں انہوں نے نواز شریف سے بھی ملاقات کی ہے جس کی نوعیت ذاتی ہے اور اس کو اے آر ڈی کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے ابھی تک وہ کمیٹی ہی تشکیل نہیں دی جو اے آر ڈی کے ساتھ حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلانے کے امکانات کا جائزہ لے گی۔ نواز، قاضی ملاقات کے بعد ملک کے سیاسی حلقے تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ یہ فیصلہ بالکل اچانک کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ تحریک چلانے کا اعلان ابتدائی ہے اور اس سلسلے میں طریقہ کار بعد میں طے کیا جائے گا۔ ایم ایم اے کے سیکریٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانافضل الرحمن بھی آج نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||