BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کا احتجاج

News image
جاوید ہاشمی کو مجموعی طور پر تئیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے
منگل کے روز لاہور سمیت پنجاب کے دوسرے شہروں میں مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے اپنی پارٹی کے قائم مقام صدر اور اے آر ڈی کے صدر جاوید ہاشمی کو بغاوت کے الزام میں سزا سناۓ جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔

لاہور میں پولیس کے بھاری پہرے میں مسلم لیگ(ن) کے درجنوں کارکن نوابزادہ نصراللہ خان کے رہائش گاہ اور اے آر ڈی کے مرکزی سیکریٹیریٹ کے باہر جمع ہوگۓ۔

مظاہرین نے ایک گھنٹے تک صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور جاوید ہاشمی کی رہائی کے لیے نعرے لگاۓ۔

اے آر ڈی میں مسلم لیگ(ن) کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے اتحاد کے صدر کی سزا کے خلاف اس احتجاج میں حصہ نہیں لیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں پاکستان کے لیے خصوصی نمائندہ عاصمہ جہانگیر بھی مسلم لیگ(ن) کے احتجاج میں شریک ہوئیں۔

پولیس نے مسلم لیگ(ن) کا احتجاجی کیمپ اکھاڑ دیا اور چھ سات مظاہرین کو جن میں دو عورتیں شامل تھیں حراست میں لے لیا۔ مظاہرین نے ایک کتا بھی پکڑا ہوا تھا جسے چند پولیس والوں نے مل کر پکڑا اور وین میں ڈال کر لے گۓ۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے نکلسن روڈ پر نوابزادہ نصراللہ کے گھر کے قریب کارکنوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے سڑک پر جانے سے گریز کیا۔

مسلم لیگ(ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری سعد رفیق نے مسلم لیگ(ن) کے اکتالیس کارکنوں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں نصف شب کے بعد سے لے کر شام تک پولیس لاہور سے گرفتار کر چکی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لاہور سے گرفتار ہونے والوں کی کل تعداد پچاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیس سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جن کے گھروں پر پولیس نے چھاپے مارے ہیں لیکن انہیں گرفتار نہیں کرسکی۔

انہوں نے کہا کہ گزشہ روز سے مسلم لیگ(ن) کا پنجاب اور لاہور شاخ کے دفاتر پولیس کے گھیرے میں ہیں اور دوسرے شہروں جیسے فیصل آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں بھی پولیس نے پارٹی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔

دوسری طرف، لاہور پولیس کے سربراہ طارق سلیم ڈوگر نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلم لیگ(ن) کی گرفتاریوں کے بارے میں دعوے مبالغہ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے صرف سات آدمیوں کو اپنے پاس رکھا ہے جنہیں شام تک رہا کردیا جاۓ گا۔

مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر ذوالفقار کھوسہ نے احتجاجی مظاہرہ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا احتجاج پر امن ہے لیکن اس کے باوجود پولیس کی بھاری نفری لگا دی گئی ہے جیسے یہاں وانا آپریشن ہورہا ہو۔

انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کی سزا کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے حوصلے پس نہیں کیے جاسکتے اور اگر حکمرانوں کا طرزعمل یہی رہا تو یہ پر امن احتجاج ایک تحریک میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

اس موقع پر انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ حکومت کی برداشت کم ہوگئی ہے اور اگر آج جاوید ہاشمی بغاوت کے الزام میں اندر ہیں تو کل کوئی صحافی، وکیل اور سماجی کارکن بھی اس کی زد میں آسکتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ حکومت بار بار عدلیہ کو ایسے مقدمات کے ذریعے آزمائش میں ڈالتی ہے جبکہ عدلیہ اس کے قابل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ایک کمزور ادارہ ہے اور لوگوں کا اس پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ فوجی آمر بار بار آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک کا بچہ بچہ انہیں سلام کرے کہ وہ بہت باشعور ہیں جبکہ ریفرنڈموں سے انہیں پتا چل جانا چاہیے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ صرف وہ کام کریں جس کی انہیں تنخواہ ملتی ہے۔

مسلم لیگ(ن) پنجاب نے دس روز تک احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے اور اگلا مظاہرہ پندرہ اپریل کو ایک مقامی رہنما کے گھر پر احتجاجی جلسے کی صورت میں ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد