شجاعت ہی صدر رہیں گے: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے حکمران مسلم لیگ کے تمام سرکردہ رہنماؤں کو اختلافات بھلا کر مشاورت کے ساتھ پارٹی کو فعال بنانے کی ہدایت کی ہے۔ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ میں پیدا ہونے والے حالیہ اختلافات کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے سرکردہ رہنماؤں کو پیر کے روز ایوان صدر میں طلب کیا اور ان سے تفصیلی مشاورت کی۔ وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی قیادت تبدیل نہیں ہوگی اور چودھری شجاعت حسین بطور صدر کام جاری رکھیں گے۔ ایک سوال پر وزیر اطلاعات نے بتایا کہ صدر نے واضح کیا ہے کہ عام انتخابات سن دوہزار سات میں ہوں گے اور اس کی تیاری ابھی سے شروع کریں۔ وزیر کے مطابق چودھری شجاعت حسین اور ظفراللہ جمالی کے درمیان معاملات پہلے ہی طے ہوگئے تھے اور ایوان صدر میں اس معاملے پر بات نہیں ہوئی۔ خلاف توقع پانچ گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والی اس مشاورت میں مسلم لیگی رہنماؤں نے صدر سے پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطوں کے بارے میں بھی کئی سوالات کیے اور صدر نے انہیں یقین دلایا کہ اگر بینظیر بھٹو کی جماعت سے ان کی کوئی مفاہمت ہوئی تو وہ مسلم لیگی قیادت کو اعتماد میں لیں گے۔ ایوان صدر جانے سے قبل چودھری شجاعت حسین نے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی اور اپنے چھوٹے بھائی رکن قومی اسمبلی وجاہت حسین کے ہمراہ بلوچستان ہاؤس میں ظفراللہ جمالی سے ملاقات کی۔ گزشتہ سنیچر کو اسلام آباد میں حکمران مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے پہلے اجلاس کے بعد وزیراعظم شوکت عزیز نے راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف سے طویل ملاقات کی تھی۔ اجلاس میں پارٹی کے قائدین کے درمیان اختلافات کو ختم کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم اس اجلاس میں سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے شرکت نہیں کی تھی جن کے پارٹی کے صدر شجاعت حسین سے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ان دھڑوں کے قائدین نے حال ہی میں لاہور میں ایک ملاقات کی تھی جس میں چودھری شجاعت حسین کی قیادت پر سوالات اٹھائے تھے۔ ادھر راؤ سکندر اقبال کی سربراہی میں قائم کردہ ’پاکستان پیپلز پارٹی، کے رہنماء آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے مطالبہ کیا ہے کہ اہم امور میں نہ صرف مسلم لیگ کے رہنماؤں بلکہ اتحادی جماعتوں کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||