BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 May, 2005, 10:22 GMT 15:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیگی قائدین کو ایوان صدر بلاوا

سابق وزراء اعظم میر ظفراللہ خان جمالی اور چودھری شجاعت حسین
سابق وزراء اعظم میر ظفراللہ خان جمالی اور چودھری شجاعت حسین کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے قائدین کو پیر کے روز ایوان صدر میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے لیے بلا لیا گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اجلاس پیر کے روز ساڑھے بارہ بجے ایوان صدر میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا ایجنڈا سیاسی صورتحال پر غور کرنا ہے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ اجلاس میں اعلیٰ قائدین اور تین صوبوں میں مسلم لیگ کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں مسلم لیگ حکومت میں ہے۔

سنیچر کے روز اسلام آباد میں حکمران مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم شوکت عزیز نے راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف سے طویل ملاقات کی تھی۔

اجلاس میں پارٹی کے قائدین کے درمیان اختلافات کو ختم کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم اس اجلاس میں سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے شرکت نہیں کی تھی جن کے پارٹی کے صدر شجاعت حسین سے اختلافات سامنے آئے ہیں۔

چودھری شجاعت حسین نے اس اجلاس کے بعد کہا تھا کہ ان کی صدارت کو کوئی خطرہ نہ تھا اور نہ ہے اور نہ ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں قائدین کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ جلد وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی اور اپنے چھوٹے بھائی اور رکن قومی اسمبلی وجاہت حسین کے ساتھ ظفراللہ جمالی سے ملاقات کریں گے۔

مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران سینیئر رہنماحامد ناصر چٹھ بھی اٹھ کر باہر چلے گئے تھے۔

حامد ناصر چٹھ ، اعجازالحق، کبیر واسطی اور منظور وٹو سمیت دیگر رہنماؤں کے مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں اور سابق صدر مملکت فاروق لغاری کی ملت پارٹی حکمران جماعت میں اپنی جماعتیں ضم کر چکے ہیں۔

تاہم ان دھڑوں کے قائدین نے حال ہی میں لاہور میں ایک ملاقات کی تھی جس میں چودھری شجاعت حسین کی قیادت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ان جماعتوں کو شکایت ہے کہ مسلم لیگ کی تنظیم سازی میں ان کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نظر انداز کردیا گیا اور پالیسی سازی میں ان سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔

مسلم لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگی رہنماؤں نے کہا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پیپلزپارٹی کے حق میں بیانات نہ دیں اور ضلعی حکومتوں کے انتخابات ایک سال کے لیے ملتوی کردیے جائیں کیونکہ ابھی انتخابی فضا حکمران جماعت کے لیے سازگار نہیں۔

ایوان صدر میں پیر کی سہ پہر ہونے والے اجلاس کو حکمران مسلم لیگ میں حالیہ انتشار کے حوالہ سے خاصی اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد