لیگ کا اجلاس، جمالی ڈٹے رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے کہا ہے کہ ان کی جماعت میں اختلافات کی خبریں چائے کی پیالی میں ایک طوفان تھا جو تھم گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے سنیچر کے روز اپنی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پارٹی صدر چودھری شجاعت حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہی۔ اس موقع پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ پارٹی کو نقصان پہنچانے والے ناکام ہوگئے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین کی صدارت میں پارٹی سکریٹیریٹ میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیراعظم شوکت عزیز، اویس احمد لغاری، حامد ناصر چٹھہ، اعجاز الحق، سلیم سیف اللہ خان اور وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام الرحیم اور امتیاز شیخ شریک ہوئے۔ پیر پگاڑہ کو اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا جبکہ سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی دعوت کے باوجود بھی اجلاس میں احتجاجی طور پر شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے پہلے شرط عائد کی تھی کہ چودھری شجاعت حسین تمام بھائیوں کے ہمراہ ان کے پاس صلح صفائی کے لیے آئیں بعد میں وہ اجلاس میں جائیں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے اس موقع پر بتایا کہ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں تمام شرکاء نے کھل کر اپنے خیالات پیش کیے۔ ان کے مطابق پارٹی میں آمریت نہیں ہے اور سب کو اختلاف رائے کا حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں بیشتر اراکین نے پارٹی معاملات کے متعلق جہاں کھل کر اختلاف رائے رکھتے ہوئے تنقید کی وہاں تجاویز بھی پیش کیں۔ انہوں کہا کہ عوام کو آئندہ بجٹ میں مراعات دینے کے لیے مسلم لیگ کی ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو حکومت کو سفارشات پیش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے منشور پر نظرِثانی کی جائے گی اور سینیٹر ایس ایم ظفر کی سربراہی میں کمیٹی قائم جائے گی جس میں سردار فاروق احمد خان لغاری اور دیگر شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق پارٹی کو فعال بنانے کے لیے پارٹی صدر کی سربراہی میں ایک ’ٹاسک فورس‘ بھی تشکیل دی جائے گی۔ گزشتہ سال جب مسلم لیگ کے بیشتر گروپ اور ہم خیال جماعتیں صدر جنرل پرویز مشرف کی خواہش پر ایک ہی مسلم لیگ پر متحد ہوئے تھے اور متحدہ مسلم لیگ کا صدر چودھری شجاعت حسین کو بنایا گیا تھا اس وقت سے اب تک یہ مجلس عاملہ کا پہلا اجلاس تھا۔ جب تک اجلاس میں وزیراعظم شوکت عزیز موجود رہے اس وقت تک پولیس نے صحافیوں اور مسلم لیگ کے کئی سرکردہ غیر متعلقہ افراد کو سکریٹریٹ کی عمارت میں جانے سے روکے رکھا۔ واضح رہے کہ میر ظفراللہ جمالی نے کہا تھا کہ جب سے چودھری شجاعت حسین مسلم لیگ کے صدر بنے ہیں اس وقت سے پارٹی کی مجلس عاملہ یا کسی فورم کا اجلاس نہیں ہوا اور محض چند لوگ ہی فیصلے کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی ایک بیان دیا تھا کہ مسلم لیگ کو جمہوری پارٹی بنانا چاہیے۔ سنیچر کے روز اجلاس جاری تھا کہ حامد ناصر چٹھہ اجازت لے کر روانہ ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ میر ظفراللہ جمالی ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ مسلم لیگ کے اجلاس میں صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت ان ہی کے برطرف کردہ وزیر امتیاز شیخ بھی شریک تھے۔ ان دونوں میں جاری اختلافات ختم کرانے کے لیے چودھری شجاعت حسین نے ایک علیحدہ اجلاس میں ان سے مشاورت بھی کی۔ ان کی مشاورت کے بعد چودھری شجاعت کے حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ اصولی طور پر وزیر اعلیٰ ارباب غلام الرحیم اور امتیاز شیخ میں اختلافات ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ لیکن اس کی باضابطہ تصدیق فریقین اور مسلم کا کوئی بھی مرکزی رہنما نے رات تک نہیں کی۔ دریں اثناء وزیراعظم شوکت عزیز نے پارٹی اجلاس میں شرکت کے بعد راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف سے طویل ملاقات کی۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے صدر کو پارٹی میں اختلافات کے بارے میں تفصیلات پیش کیں اور ملک کی سیاسی صورتحال سمیت آئندہ بجٹ کے بارے میں بھی بریف کیا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||