BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 April, 2005, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اچھاسیاسی ماحول بنائینگے: شجاعت

شجاعت حسین
بات چیت کے عمل کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے(فائل فوٹو)
حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی لاہور آمد کے موقع پر گرفتار کیے گئے لوگوں کو جلد از جلد رہا کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اچھا سیاسی ماحول بنائے گی۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کو تجاویز دی جائیں گی کیونکہ یہ لوگ مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

بدھ کو لاہور میں وزیراعلٰی ہاؤس میں چودھری شجاعت حسین نے اخبار نویسوں سے بات چیت کی اور پیپلزپارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ سیاست میں بات چیت کےدروازے اس وقت بند ہوتے ہیں جب قومی مفادات کی آڑ میں ذاتی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے عمل کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔

حکمران جماعت کےصدر نے یہ بھی کہا کہ وہ آصف زرداری کی آمد کے موقع پر گرفتار ہونے والوں کی جلد رہائی کے لیے پنجاب حکومت سے بات کریں گے کہ قانونی تقاضے پورا کرتے ہوئے انہیں جلد چھوڑ دیا جائے۔

چودھری شجاعت نے کہا کہ آصف زرداری کے ساتھ پولیس کی گارڈ ان کی درخواست پر لگائی گئی تھی اور اگر زرداری تحریری طور پر کہیں تو وہ پنجاب حکومت سے اسے ہٹانے کے لیے کہیں گے اور آدھ گھنٹے میں پولیس گارڈ ہٹ جائے گی۔

آصف زرداری کی طرف سے گارڈ ہٹانے کی بات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ چودھری شجاعت ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں جنہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا۔

چودھری شجاعت حسین نے کہاکہ انہوں نے مسلم لیگ کی صوبائی حکومتوں کو ہدایت کردی ہے کہ وہ صوبوں میں جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول اور فضا فراہم کریں۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے متعینہ مقامات پر جلسوں کے لیے موصول ہونے والی کسی درخواست کو مسترد نہ کریں۔

تاہم انہوں نے کہاکہ جلوسوں پر موجودہ انتطامی اقدامات کے تحت پابندی عائد ہے اور اس کا حکمران مسلم لیگ سمیت تمام جماعتوں پر یکساں اطلاق ہوتا ہے۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور ہمیں مخالفوں کی صحت مندانہ تنقید کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تحریر و تقریر کی مکمل آزادی ہے۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے ان کی جماعت کے انتخابی اتحاد کاامکان نہیں اور مسلم لیگ آئندہ الیکشن اپنے فطری حلیفوں کے ساتھ مل کر لڑے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی قومی امور پر پہلے بھی بات چیت کرتی رہی اور اب بھی اس کے لیے تیار ہے لیکن جب قومی مفادات کی آڑ میں ذاتی مراعات طلب کی جائیں تو معاملات بگڑ جاتے ہیں۔

اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیر افگن نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو حکومت سے بات چیت میں اپنے خلاف سوئزرلینڈ میں چلنے والے کوٹیکنا کیس کو واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد