BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 April, 2005, 18:52 GMT 23:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب نہ ’ڈیل‘ نہ ’ڈھیل‘: شجاعت

News image
چودھری شجاعت کے مطابق مسلم لیگ کے حلقوں میں پیپلز پارٹی سے ڈیل کا تاثر ہے
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی دی گئی ڈھیل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ’ڈیل‘ کا تاثر دے کر فوج اور حکومت کے کندھے پر سوار ہوکر اسلام آباد آنے کی کوشش کی ہے۔

مسلم لیگ سیکریٹریٹ میں پیر کی شام سیرت النبی کے بارے میں منعقد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی سے ’ڈیل‘ نہیں ہوگی اور اب انہیں ڈھیل بھی نہیں دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ کے حلقوں میں پیپلز پارٹی سے ڈیل کا تاثر ہے لیکن وہ واضح کرتے ہیں کہ حکومت پیپلز پارٹی سے ڈیل نہیں کرے گی اور انتخابات اپنے موجودہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر لڑے گی۔

چودھری شجاعت حسین نے اس موقع پر موجود وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شیخ رشید احمد کو مخاطب ہوکر کہا کہ وہ اب ’کیسٹ چلائیں‘ اور حقائق منظر عام پر لائیں۔

حکمران جماعت کے سربراہ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ملکی اور عوامی مفاد میں تھوڑا جھوٹ بولنا چاہیے لیکن سو فیصد ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ساتھ میں انہوں نے کہا سیانے کہتے ہیں کہ بیوی سے کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔

چودھری شجاعت حسین نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ یہاں ایسے بھی سیاستدان ہیں جو یہودیوں سے شادیاں کرتے ہیں لیکن ان سے بات کرنے کے مخالف ہیں۔ ان کے بقول ایسے لوگ منافق ہیں اور منافق کو منافق نہ کہنا بھی بڑی منافقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ظلم کہیں بھی ہو عراق میں یا افغانستان میں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خواتین کے خلاف ظلم کے نام پر غیر سرکاری تنظیموں والوں کو سڑکوں پر لایا جائے۔

مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ حکمرانوں کے سامنے تعریف نہیں کرنی چاہیے لیکن ان کی تعریف اور جی حضوری کرنا منافقت کے زمرے میں نہیں آتا۔

وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے اس موقع پر پیپلز پارٹی کے بارے میں اپنی جماعت کے سربراہ کی فرمائش پر پیپلز پارٹی کے بارے میں کوئی ’کیسٹ‘ تو نہیں چلائی۔ البتہ کہا کہ اگر کوئی عقل کا اندھا یہ سمجھتا ہے کہ ملک میں دینی قوتیں کمزور ہوگئیں ہیں تو یہ اس کی غلطی فہمی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر مغربی دنیا سنت رسول یعنی داڑھی کی توہیں کرے گی تو ان کے خلاف اسلامی دنیا میں نفرت بڑھے گی۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ مولانا سمیع الحق ایک اعتدال پسند شخص ہیں اور ان کے بارے میں یورپ نے غلط اندازہ لگایا ہے۔

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے چودھری شجاعت حسین کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ انہوں نے ڈیل کی ہے اور نہ حکومت سے ڈھیل لی ہے اور ان کے بقول نہ ہی انہیں اس کی کوئی ضرورت ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت کے اس رہنما کے مطابق لاہور ہو یا اسلام آْباد سب پاکستان کے شہر ہیں اور جہاں بھی انہیں ضرورت پڑے گی وہاں جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد