BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 June, 2004, 23:20 GMT 04:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چوہدری شجاعت کی بادشاہ گری

چوہدری شجاعت حسین
چوہدری شجاعت حسین
پاکستانی سیاست میں ایک بادشاہ گر کی حیثیت سے ابھرنے والے پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں۔

ان کے خاندان نے جنرل ایوب خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومتوں سے بھرپور تعاون کیا اور اپنی سیاسی قدر و قیمت بڑھاتا چلا گیا حالانکہ یہ خاندان پنجاب کے ان روایتی سیاسی خاندانوں میں شامل نہیں جو ملک بننے سے پہلے سے قومی سیاست میں نمایاں تھے۔

چوہدری شجاعت حسین گجرات کے چوہدری ظہور الٰہی کے بیٹے ہیں جو ایک عام نچلے متوسط طبقہ کے آدمی تھے۔ وہ ایوب دور میں سرکاری جماعت کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور ایوب کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں پنجاب میں جاٹ برادری کے ایک نمایاں سیاست دان کے طور پر جانےلگے۔ سیاست میں آنے کے بعد ان کا شمار ملک کے نمایاں کاروباری خاندان کے طور پر ہونے لگا۔

چودہری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی
چودہری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی

ظہور الٰہی نے ذوالفقار علی بھٹو کی سخت مخالفت کی اور انیس سو ستتر کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء میں ظہور الٰہی وفاقی وزیر بنائے گئے۔ جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء نے جس قلم سے بھٹو کی پھانسی کے پروانہ پر دستخط کیے تھے اسے یادگار کے طور پر حاصل کر لیا۔ انہیں جنرل ضیاء کے دور میں ہی لاہور میں قتل کر دیا گیا تھا۔

شجاعت حسین نے اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور مجلس شورٰی کے رکن رہے۔ انیس سو پچاسی کے انتخابات میں وہ پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔ ان کے کزن چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں جنہیں صحیح معنوں میں ظہور الٰہی کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا ہے۔

چوہدری شجاعت حسین انیس سو اٹھاسی، انیس سو نوے اور انیس سو ستانوے میں بھی رکن قومی اسمبلی بنے تاہم انیس سو ترانوے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اور معروف صنعتکار احمد مختار کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔

انیس سو چھیاسی میں چوہدری خاندان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ لینے کے لیے اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کے خلاف بغاوت کی تھی لیکن اسے ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے شریف خاندان سے ہمیشہ اپنا تعلق استوار رکھا گو ان کے اختلافات اندرون خانہ موجود رہے۔

نواز شریف جب تک اقتدار میں رہے انہوں نے چوہدری خاندان کے سیاسی قد میں اضافہ نہیں ہونے دیا اور ان کی خواہش کے برعکس انیس سو نوے اور انیس سو ستانوے میں چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نہیں بنوایا۔

شجاعت حسین نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر داخلہ رہے لیکن ان کی وزارت کے زیادہ تر اختیارات احتساب بیور کے سیف الرحمٰن کے پاس تھے یا خود وزیراعظم کے پاس۔

جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو شجاعت حسین کو دو فائدے ہوئے۔ ایک تو جنرل مشرف سے ان کی واقفیت تھی کہ دونوں ایک زمانےمیں لاہور کے ایف سی کالج میں پڑھتے رہے تھے او دوسری جنرل مشرف کے قریبی معتمد طارق عزیز چوہدری خاندان کے دوست تھے۔

چوہدری شجاعت حسین نے نواز شریف کی معزولی کے بعد ایک دم تو انہیں نہیں چھوڑا۔ وہ ایک سال تک شریف خاندان کی سربراہی میں مسلم لیگ سے وابستہ رہ کر حیلہ بہانہ سے نواز شریف کی سیاست سے اختلافات کرتے رہے لیکن جب نواز شریف کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا تو انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت میں مسلم لیگ کی تقسیم میں کلیدی کردار ادا کیا اور اس کا الگ دھڑا قائم کر لیا جس کے صدر لاہور کے ارائیں اور سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر بنے۔

میاں محمد اظہر نے نئی مسلم لیگ کو ایک جواز مہیا کیا کیونکہ وہ ایک بااصول اور کارکنوں کے دوست آدمی سمجھے جاتے تھے لیکن مسلم لیگ نواز شریف سے ٹوٹ کر منظم ہوگئی تو میاں محمد اظہر کو چوہدری شجاعت حسین اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے مل کر صدر کے عہدے سے الگ کر دیا اور چوہدری شجاعت حسین کو نئی جماعت کا صدر منتخب کر لیا گیا۔

ظفراللہ جمالی کو وزیراعظم بنوانے میں چوہدری شجاعت حسین کا خاصا ہاتھ تھا کیونکہ دو ہزار کے انتخابات کے بعد انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم چھوٹے صوبے سے آئے جو صاف طور پر جمالی تھے حالانکہ اس وقت متحدہ مجلس عمل شجاعت حسین کے وزیراعظم بننے پر ان کی حمات کرنے کے لیے تیار تھی۔

تاہم چوہدری شجاعت حسین کی زیادہ توجہ اس بات پر تھی کہ ان کے کزن پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن جائیں جو ان کی دیرینہ خواہش تھی اور لوگ مذاق کرنے لگے تھے کہ ان کے ہاتھوں میں وزارت اعلیٰ کی لکیریں نہیں ہیں۔

وزیراعظم جمالی سے شجاعت حسین کے اختلاف کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شجاعت حسین جمالی کی کابینہ میں اپنے پسند کے وزرا بنوانا چاہتے تھے لیکن ظفراللہ جمالی اس بات پر رضامند نہیں تھے اور انہوں نے اس دباؤ کو قبول نہ کرنے کے لیے کابینہ کی توسیع ہی نہیں کی۔

شجاعت حسین خاصے بیمار ہیں اور ان کا جرمنی میں علاج ہوتا رہا ہے جسے وہ کہتے ہیں کہ ناک کا کامیاب آپریشن تھا لیکن ان کے قریبی لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی بیماری شاید اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ علالت بھی ان کے عبوری دور میں سرگرم نہ ہونے اور نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کو زیادہ کام کاج کا موقع دینے کا ایک بہانہ بن سکتی ہے۔

شجاعت حسین کبھی بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار نہیں رہے اور اب انہوں نے شوکت عزیز کے لیے دو ماہ کی عبوری مدت کے بعد یہ عہدہ چھوڑ دینے کا اعلان کیا ہے تو کئی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اپنے کزن چوہدری پرویز الٰہی کےمستقبل میں وزیراعظم بنوانے کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ جب جمالی اپنے استعفے کا اعلان کر رہے تھے تو پنجاب کے وزیراعلیٰ کا وہاں اسٹیج پر موجود ہونا معنی خیز تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد