بگتی اور حکومت کے درمیان معاہدہ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سرکاری طور پر جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز میں دعوی کیا گیا ہے کہ حکومت اور بلوچ سردار نواب اکبر بگتی کے درمیان ڈیرہ بگتی اور سوئی میں جاری لڑائی کو ختم کرنے پر معاہدہ ہو گیا ہے۔ اسلام آباد سے صحافی احتشام الحق نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ سادے صفحے پر جاری ہونے والے اس پریس ریلیز پر چوہدری شجاعت حسین ، مشاہد حسین اور نواب اکبر بگتی کے دستخط ہیں۔ اس معاہدے کے تحت حکومت ڈیرہ بگتی اور سوئی سے سیکیورٹی فورسز کو فوری طور پر واپس بلانے اور سوئی اور ڈیرہ بگتی کا راستہ کھولنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوئی میں گیس کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے فورنٹیئر کور کے کچھ دستے موجود رہیں گے۔ بلوچ سردار نواب اکبر بگتی اور حکومتی جماعت کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور سیکریٹری جنرل مشاہد حسین کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے مذاکرات ہو رہے تھے۔ ان مذاکرات میں شیر علی مزاری بھی شامل تھے۔ اس معاہدے کے مطابق صوبائی خودمختاری کے حوالے سے یہ طے پایا ہے کہ پارلیمان کی کمیٹی کی سفارشات مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔ اس مسئلہ کو پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔ ڈیرہ بگتی میں ایف سی کے کمانڈانٹ کرنل فرقان نے معاہدہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال ان کی فورس بگتی قبائل کے محاصرے ہی میں ہے لیکن امید ہے کہ اتوار کی صبح سے حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ڈیرہ بگتی میں ایف سی اور بگتی قبیلے کے درمیان سترہ مارچ کو ہونے والی ایک جھڑپ میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ نواب اکبر بگتی نے کہا تھا کہ ایف سی کی فائرنگ اور گولہ باری سے اکسٹھ لوگ ہلاک ہو گئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد ڈیرہ بگتی میں آباد ہندؤں کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||