ڈیرہ بگٹی: ایف سی مسلسل محصور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں حالات معمول پر آ رہے ہیں لیکن فرنٹیئر کور کے حکام نے کہا ہے کہ بگٹی قبائل کے لوگوں نے ان کے قلعے کا جو محاصرہ کیا تھا وہ مسلسل اب تک جاری ہے۔ ڈیرہ بگٹی بازار میں کچھ دکانیں کھلی ہیں اور کسی حد تک کچھ چہل پہل رہی ہے لیکن خوف کی فضا شہر پر طاری ہے۔ فرنٹیئر کور کی بھمبھور رائفل کے کمانڈنٹ کرنل فرقان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بگٹی قبائل کے لوگوں نے انتیس چوکیاں قائم کر رکھی ہیں جو ایف سی کے قلعے کے ارد گرد قائم ہیں۔ اس قلعے میں ایف سی کی کوئی تین سو سے زیادہ اہلکار موجود ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس جگہ پر ایف سی کی صرف تین چوکیاں ہیں۔ اس بارے میں نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق اس قلعے میں ایف سی کی اٹھارہ سو سے دو ہزار اہلکار موجود ہیں۔ اس سوال پر کے کیا بگٹی قبائل کے لوگوں نے قلعے کو محاصرے میں لے رکھا ہے نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ اگر حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے تو یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ابھی تک انھوں نے یا حکومت نے تین رکنی کمیٹی کے لیے کوئی نمائندہ مقرر نہیں کیا ہے صرف سینیٹر مشاہد حسین پر انھوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے جو ایک غیر جانبدار رکن کی حیثیت سے کمیٹی میں کام کریں گے۔ یہ کمیٹی کوئی فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ جو فیصلے وہ حکومت کے ساتھ مل کر کریں گے یہ کمیٹی ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ مذاکرات اور کمیٹی خالصتاً ڈیرہ بگٹی سوئی اور بگٹی قبائل کے لیے ہے اور اس میں بلوچستان کے دوسرے مسئلے شامل نہیں ہیں اس کے لیے علیحدہ کام ہو رہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ جب بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے قائم کمیٹی کام شروع کرے گی تو وہ اس میں دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حصہ لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||