BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 May, 2005, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ میں اختلافات
News image
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے مرکزی رہنماؤں میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور سرکردہ رہنماؤں نے ایک دوسرے پر کھل کر تنقید شروع کردی ہے۔

پیر کے روز لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی اب پارٹی میں نہیں ہیں کیونکہ وزارت اعظمیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد ان کی مسلم لیگ سے بنیادی رکنیت ہی ختم ہوگئی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل سلیم سیف اللہ خان نے کہا ہے جمالی کو کوئی بھی پارٹی سے نہیں نکال سکتا کیونکہ ان کے والد نے قائد اعظم سے مل کر پاکستان بنایا تھا۔

انہوں نے کہا چودھری شجاعت حسین مسلم لیگ کو عوامی پارٹی بنانے میں ناکام ہوگئے ہیں اور وہ بھی میاں اظہر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ ان کے مطابق میاں نواز شریف ایک متحرک آدمی تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ مسلم لیگ کو عوامی جماعت بنا دیا تھا۔

سلیم سیف اللہ نے انکشاف کیا کہ آئندہ ماہ تبدیلیوں کا ہے۔ ان کے مطابق جہاں کابینہ میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی وہاں پارٹی کے اندر بھی ردو بدل ہوگی۔

انہوں نے تفصیلات تو نہیں بتائیں البتہ اتنا کہا کہ اس ضمن میں سردار فاروق لغاری، حامد ناصر چٹھہ، میاں منظور احمد وٹو اور اعجازالحق کی ایک خفیہ ملاقات بھی ہوچکی ہے۔

حکمران مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلیم سیف اللہ خان نے مزید کہا کہ چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں پارٹی کی ناکامی کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی سمیت ملک کی دیگر مقبول جماعتوں سے مفاہمت کے لیے رابطے شروع کیے ہیں۔

ان کے بقول صدر جنرل پرویز مشرف نے سن دوہزار سات میں صدر کا انتخاب کا لڑنا ہے اور انہیں اکثریتی ووٹ چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دیگر جماعتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

سلیم سیف اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ کے تمام گروپ ’اوپر، سے تو متفق ہوگئے ہیں لیکن آج تک کسی جگہ اکٹھے نہیں بیٹھے۔

مسلم لیگ کے اندرونی اختلافات اپنی جگہ لیکن حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں سے بھی چودھری شجاعت حسین اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے وفاقی وزیر دفاع راؤ سکند اقبال اور فیصل صالح حیات کے ساتھ بھی اختلافات کی خبریں بھی اکثر پاکستان کی اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ سلیم سیف اللہ خان نے اپنے طور پر سب کچھ نہیں کہا ہوگا بلکہ انہیں کسی کی ’اوپر، سے حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔

ایسی صورتحال میں سیاسی تجزیہ کار مسلم لیگ کے اندرونی اختلافات کی ڈور پیپلز پارٹی اور صدر جنرل پرویز مشرف کے رابطوں والی خبروں سے ملا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی رواں سال انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ سولہ مئی کو دبئی سے پاکستان پہنچنے والے آصف علی زرداری مختلف شخصیات سے ملاقاتوں کے بعد واپس دبئی چلے گئے ہیں۔

انہوں نے پارٹی سربراہ بینظیر بھٹو کو رپورٹ پیش کی ہے اور وہ جلد پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کا لندن میں اجلاس بلانے پر غور کر رہی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کی باتیں اپنی جگہ لیکن حکومتی اراکین ان کی رائے کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور عام انتخابات سن دوہزار سات میں ہی ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد