قومی اسمبلی: حزب اختلاف کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی حکمران پارٹی مسلم لیگ سے پیر کو ملاقات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ایوان میں شدید نعرے بازی کی اور اس کے بعد سپیکر چوہدری امیر حسین کی طرف سے اس مسئلے پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر واک آؤٹ کیا۔ منگل کی صبح جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور پیر کو صدر جنرل پرویز مشرف کی مسلم لیگ سے ملاقات کے حوالے سے احتجاج کیا اور ’گو مشرف گو‘ اور ’نو مشرف نو‘ کے نعرے لگائے اور ڈیسک بجائے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت میں اندرونی انتشار کے بعد ایوان صدر میں اس پارٹی کا اجلاس بلانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس پارٹی کو کون چلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کسی بھی ایک پارٹی کے اندرونی معاملات کو سلجھانے کے لیے ایوان صدر میں اجلاس نہیں بلا سکتے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس ’میٹنگ‘ نے ثابت کر دیا ہے کہ تمام فیصلے ایوان صدر میں ہوتے ہیں۔ سپیکر نے شاہ محمود قریشی کو درمیان میں روک کر ان کا مائیک بند کروا دیا جس کے بعد اپوزیشن ارکان نے زور زور سے ڈیسک بجانے شروع کر دئے۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے بھی اس مسئلے پر تحریک پیش کرنا چاہی تو سپیکر نے ان کا مائیک بھی بند کروا دیا جس کے بعد اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ حکومتی اراکین نے اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد تقاریر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا اس میٹنگ پر اعتراض بلا جواز ہے۔ ابھی حکومتی اراکین تقاریر کر رہے تھے کہ اپوزیشن کے ایک ممبر نے کورم کی نشاندہی کر دی اور گنتی کروانے پھر کورم پورا نہیں نکلا جس کے بعد سپیکر نے اجلاس کو معطل کر دیا۔ واک آؤٹ کے بعد شاہ محمود قریشی اور مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر چوہدری نثار علی خان نے کیفے ٹیریا میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے وردی پہن کر مسلم لیگ کے اجلاس میں شرکت کی اور ان کو اندرونی انتشار ختم کرنے اور بلدیاتی انتخابات کی تیاری کرنے کے جو احکامات جاری کیے اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ ملک میں کتنی جمہوریت ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ کے صدر تو چوہدری شجاعت کو کہا جاتا ہے مگر پارٹی کے اندرونی معاملات صدر جنرل مشرف طے کرتے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ حکمران مسلم لیگ چند مفاد پرست سیاستدانوں کا ایک ٹولہ ہے جس کو عوام کی تائید حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت نے پیر کی شب بغیر ووٹنگ کرائے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا بل منظور کروایا۔ شاہ محمود قریشی نے سپیکر کے رویے پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کو اس بل پر بولنے کا موقع تک نہیں دیا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما چوہدری نثار نے کہا کہ صدر مشرف ایک سرکاری ملازم ہیں اور ان کی طرف سے ایک سیاسی جماعت کو ڈانٹ ڈپٹ سیاستدانوں کے لیے باعث تضحیک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||