صحافی: بغیر وارنٹ گرفتاری جائز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی سے نئے قانون کو منظوری کے بعد الیکٹرنک میڈیا کےصحافیوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا۔ پاکستان کی حکومت نے پیر کو قومی اسمبلی سے متنازعہ ’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 ، یعنی ’پیمرا، میں ترمیم کا بل اکثریت رائے سے منظور کرالیا ہے۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں اور صحافیوں کی مرکزی تنظیم نے اس بل کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ لیاقت بلوچ، سید خورشید شاہ اور دیگر کا کہنا ہے کہ اس ترمیمی بل سے الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کا حکومت کو اختیار مل جائے گا۔ حزب اختلاف کے اراکین کے مطابق اس بل کے ذریعے حکومت آزدای صحافت پر قدغن لگانا چاہتی ہے اور اس سے جہاں حکومت عامل صحافیوں کو ڈرا دھمکا سکے گی وہاں ان کے پیشہ ورانہ امور میں رکاوٹ بھی پیدا کرسکے گی۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی نے بتایا کہ اس بل کا مقصد اخباری مالکان کو ملک کے اندر ٹی وی چینل شروع کرنے کی اجازت دینا ہے۔ جب ان سے حزب اختلاف کے اٹھائے گئے نکات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اختیارات پہلے ہی اس آرڈیننس میں موجود ہیں لیکن حزب اختلاف اس کو سیاق وسباق سے ہٹ کر غلط پسمنظر میں پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے بغیر وارنٹ کے براڈ کاسٹر اور دیگر متعلقہ افراد کی گرفتاری کی شق ترمیمی بل میں ہونے سے انکار تو نہیں کیا البتہ بتایا کہ ’پیمرا، ایک ادارہ ہے اور اگر اس کا کوئی افسر کسی کے خلاف کارروائی کرے گا تو اس کے لیے انہیں ٹھوس ثبوت مہیا کرنے ہوں گے۔ ادہر پاکستان میں صحافیوں کی ملکی سطح کی تنظیم ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے اس بل کی منظوری کو پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کالے قانون کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور وہ بہت جلد مشاورت کے بعد اس کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی وضح کریں گے۔ وزیراطلاعات شیخ رشید احمد سے جب بغیر وارنٹ کے الیکٹرانک میڈیا سے منسلک صحافیوں کی گرفتاری کی شق کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس کا علم نہیں ہے۔ ان کے مطابق انہیں یہ پتہ ہے کہ اس بل کا مقصد اخباری مالکان کو ملک سے ٹی وی چینل شروع کرنے کی اجازت دینا ہے۔ واضح ہے کہ اس وقت بھی پاکستان میں اخباری مالکان ٹی وی چینل کی نشریات چلا رہے ہیں لیکن انہوں نے ٹی وی چینلز کے دفاتر ملک سے باہر کھول رکھے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||