پیر پگاڑا کے ساتھ ہوں، میاں اظہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سابق صدر میاں محمد اظہر نے بزرگ مسلم لیگی رہنما اور مسلم لیگ(فنکشنل) کے سربراہ پیرپگارا کے بھیجے ہوئے وفد سے آج ملاقات کے بعد کہا ہے کہ وہ پیر پگاڑا کے ساتھ ہیں۔ میاں محمد اظہر سے اتوار کی صبح شیخ سراج اور کاشف نظامانی نے ملاقات کی اور انہیں پیر پگاڑا کا پیغام پہنچایا۔ میاں اظہر کے مطابق ان دونوں نے ان سے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں درخواست دے رہے ہیں کہ نصرت بھٹو کیس کے تحت اصل مسلم لیگ پیر پگاڑا کی ہے اور کسی اور جماعت کو یہ نام استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ میاں محمد اظہر نے کہا کہ وہ جلد پیر پگاڑا سے کراچی جا کر ملیں گے اور انہوں نے ان کے وفد کو یقین دلایا کہ وہ ان سے متفق ہیں اور وہ مسلم لیگ کو عوام جماعت بنانے کی شروعات کریں۔ سنہ انیس سو ننانوے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اقتدار سے سبکدوشی سے پہلے جن لوگوں نے ان کے خلاف مسلم لیگ میں بغاوت کی ابتدا کی تھی ان میں میاں محمد اظہر پیش پیش تھے۔ میاں اظہر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ میں انتحابات ہوں اور اس کا صدر ایک منتخب شخص ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت حکمران مسلم لیگ پر ایک لوٹ مار مافیانے قبضہ کر رکھا ہے اور عوام میں مایوسی ہے۔ میاں محمد اظہر کو سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں سے شکست ہوگئی تھی اور بعد میں ان کے وزیراعظم ظفراللہ جمالی اور چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی سے اختلافات ہوگئے تھے جس پر انہیں مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹا دیا گیا۔ میاں اظہر اور مسلم لیگ کے ہارے ہوئے دوسرے رہنماؤں جیسے فخر امام، الہی بخش سومرو، بیگم عابدہ حسن وعیرہ نے آزاد جمہوری گروپ کے نام سے ایک گروہ بنایا ہوا ہے جو سررکاری مسلم لیگ کے خلاف بیانات دیتا رہتا ہے۔ سنیچر کو کراچی میں پیرپگاڑا سے سابق وزیراعظم طفراللہ جمالی نے بھی ملاقات کی تھی جن کے حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین سے اختلافات سامنے آئے تھے اور بعد میں کہا گیا تھا کہ دونوں نے بات چیت کر کے ان اختلافات کو ختم کرلیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ ظفراللہ جمالی حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین کو صدارت سے الگ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ظفر اللہ جمالی حالیہ دنوں میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ایک سے زیادہ بار ملاقات کرچکے ہیں۔ چند ہفتہ پہلے صدر جنرل مشرف نے لاہور میں وفاقی وزیر ہمایوں اختر سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی تھی اور ہمایوں اختر اس وقت سے سیاسی طور پر خاصے سرگرم ہیں اور ان کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں ہیں کہ انہیں کوئی اہم حکومتی ذمہ داری ملنے والی ہے۔ سنیچر کو پیر پگاڑا نے کہا تھا کہ اسمبلیوں اور حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے۔ دوسری طرف سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ آئیندہ چند ہفتوں میں جنرل مشرف اہم فیصلے کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||