BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 July, 2004, 22:37 GMT 03:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ (ف) کی شناخت

مسلم لیگ: قیام سے اب تک مشکل سفر
مسلم لیگ: قیام سے اب تک مشکل سفر
پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) نے جس کے سربراہ شاہ مرداں شاہ عرف پیر پگاڑہ ہیں، حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مدغم ہونے سے انکار کردیا ہے۔ ایسی صورتحال میں حال ہی میں صدر جنرل پرویز مشرف کی کوششوں سے مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں اور حکومت میں شامل بعض اتحادوں کے مدغم ہوکر ’پاکستان مسلم لیگ‘ کے نام سے بنائی گئی نئی جماعت کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

پیر کے روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ فنکشنل کی درخواست کی سماعت فریقین کی رضامندی کے بعد غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ہے۔

تاہم اٹک اور تھرپارکر کے قومی اسمبلی کے حلقوں کے ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کو سائیکل کا انتخابی نشان دینے کی درخواست کمیشن نے منظور کرلی ہے۔

پیر کے روز قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر جو کہ سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج بھی ہیں، کی سربراہی میں کمیشن نے رجسٹریشن منسوخ نہ کرنے کے متعلق مسلم لیگ فنکشنل جبکہ حکمران مسلم لیگ کی ضمنی انتخابات میں سائیکل کا نشان دینے کی درخواستوں کی سماعت کی۔

اس موقع پر حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین، وسیم سجاد اور عظیم طارق جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کے قائم مقام صدر سلطان محمود خان اور دیگر بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ضیا)، مسلم لیگ (جناح)، مسلم لیگ (چٹھہ) اور مسلم لیگ فنکشنل کے علاوہ حکومت میں شامل نیشنل الائنس اور سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں نے متحد/ مدغم ہو کر ’پاکستان مسلم لیگ‘ کے نام سے نئی جماعت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد نو زائدہ مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن میں رجسٹر کرانے کی درخواست دی گئی جس میں تمام مسلم لیگ کے دھڑوں کو ختم کرنے کی بھی استدعا کی گئی تھی، وہ الیکشن کمیشن نے قبول کرلی تھی۔

ایسی صورتحال میں مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما سلطان محمود خان کے بقول انہوں نے الکیشن کمیشن کو درخواست دی کہ وہ مسلم لیگ میں مدغم نہیں ہوئے بلکہ اتحاد کیا ہے لہٰذا ان کی جماعت کا تشخص ختم نہ کیا جائے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس سے پہلے کمیشن نے کوئی ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے ان کی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہو تو وہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ ان کے بقول ایسے فیصلے میں وہ فریق نہیں تھے۔

سلطان محمود خان کا کہنا تھا کہ ان کا موقف واضح ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، حکومت کے اتحادی بھی ہیں لیکن مسلم لیگ فنکشنل کی شناخت ختم کرکے حکمران جماعت میں مدغم نہیں ہوں گے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین سے جب اس ضمن میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پیر پگاڑہ سے ملاقات کریں گے اور مسئلہ حل کرلیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد