مسلم لیگ کارکنوں کی گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس نے مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتارکرنا شروع کر دیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کے جلا وطن صدر شہباز شریف کے استقبال میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے صوبے کے چونتیس اضلاع سے اب تک کم از کم ان کے پینتیس مقامی کارکن اور رہنما گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ یہ بات مسلم لیگ نواز کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ ،نائب صدر پیر بنیامین رضوی اور سیکرٹری جنرل خواجہ سعد رفیق نے لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب ہوئے بتائی۔ صوبائی صدر نے کہا کہ رہنماؤں اور کارکنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، ان کےگھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں،ان کا پیچھا کیا جاتا ہے اور کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے استقبال میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے ٹرانسپورٹروں کو تنگ کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے سرکاری افسر اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے بتایاکہ ان کی اطلاعات کے مطابق صوبے میں ان کے پینتیس کارکنوں کی گرفتاری کے علاوہ ایسے پانچ مزدوروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو شہباز شریف کے پوسٹر چھاپ رہے تھے۔ انہوں نے سول سرکاری افسروں کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے رویہ کو ٹھیک کریں اور کہا کہ مسلم لیگ بھی ایسے افسروں کی فہرست تیار کر رہی ہے جو مسلم لیگ کے خلاف اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان کی یہ سرکاری ایجنسیاں نیک نام نہیں ہیں اور وہ ہر دور میں گڑبڑ کرتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||