’پاسپورٹ ہمارا آئینی حق ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے شہر جدہ میں پاکستانی قونصل خانے نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے جلا وطن رہنما نواز شریف اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی پاکستانی پاسپورٹ کی درخواست وصول کرکے حکومت پاکستان کو بھیجوا دی ہے۔ جدہ سے نواز شریف کے دآماد کپٹن صفدر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قونصل خانے نے کہا ہے کہ ان کی درخواست قونصل جنرل کے ایک خط کے ساتھ اسلام آباد بھجوا دی گئی ہے اور ان کو جواب دو دن میں دے دیا جائے گا۔ صفدر نے کہا کہ انہوں نے ’آئینی‘ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیوی کلثوم نواز کی درخواست قونصل خانے میں ہفتے کو جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے پاسپورٹ حاصل کرنے کے آئینی حق کا تقاضہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو قونصل خانے کے حکام نے ان سے آدھے گھنٹے کی ملاقات کی جس میں انہوں بتایا کہ گیا کہ نواز شریف اور کلثوم نواز کی درخواست کو ریاض میں پاکستانی سفیر کو بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال قبل بھی انہوں نے ایسی ہی ایک درخواست جمع کرائی تھی لیکن دو سال میں پاکستان قونصل خانے کے حکام نے نہ تو انہیں کوئی جواب دیا اور نہ ہی ان کے کسی فون کا جواب دیا۔ کیپٹن صفدر نے بتایا کہ قونصل خانے کے حکام نے ان کو بتایا کہ شریف فیملی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ان کو اسلام آباد سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی یہ درخواست ایسے موقع پر دی گئی ہے جب ملک میں حکومت اور مسلم لیگ نواز کے درمیان مفاہمت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت پاکستانی پاسپورٹ کا حصول نواز شریف کا حق ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ جدہ میں پاکستانی قونصل خانہ کرے گا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پاسپورٹ کی درخواست اور حکومت سے مفاہمت دو الگ چیزیں ہیں اور ان کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ نواز شریف کو صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر کے کپٹن صفدر سمیت ان کے خاندان کو دو ہزار میں سعودی عرب جلا وطن کردیا تھا۔ کپیٹن صفدر نے کہا کہ انہوں نے دو وفاقی وزراء کے ایسے بیانات سنے ہیں جن میں وہ کہہ رہے تھے کہ پاسپورٹ حاصل کرنا نواز شریف کا آئینی حق ہے۔ کپیٹن صفدر نے کہا کہ ان کو وزراء کے بیانات سے کوئی خوش فہمی نہیں ہے کیونکہ ان وزراء کی اپنی نقل و حمل پر پابندیاں ہیں اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ہیں۔ کپیٹن صفدر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف 1973 کے آئین کے تحت اب بھی آئینی وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اور کلثوم نواز کو پاسپورٹ جاری کر دیے گئے تو باقی اہلِ خانہ کو بھی پاسپورٹ مل جائیں گے۔ کپیٹن صفدر نے حکومت کے ساتھ مفاہمت کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسپورٹ حاصل کرنا نواز شریف کا آئینی حق ہے اور اس کے حصول کے لیے ان کو کسی مفماہمت کی ضرورت نہیں ہے۔ کپیٹن صفدر نے کہا کہ انہوں نے پانچ سال پورے کر لیے ہیں اور واپس پاکستان جانے کے لیے ان کو کسی پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے جب وہ آئے تھے تو تب بھی ان کے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں تھے اور انہیں جیلوں سے نکال کر سعودی عرب پہنچا دیا گیا تھا۔ پاکستان واپس جانے کے بارے میں کپیٹن صفدر نے کہا کہ اللہ کو منظور ہوا تو وہ واپس اپنے ملک چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران تو بیگم کلثوم نواز کو بھی واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہے اور ان سے خوفزدہ ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||