BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چارٹرآف ڈیموکریسی پراتفاق

 نواز شریف اور بینظیر بھٹو
میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے دوپہر کا کھانا بھی اکٹھے کھایا اور سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے جمہوریت کی بحالی، غیرجانبدار الیکشن کمیشن کے زیرانتظام فوری عام انتخابات منعقد کرنے اور ایک دوسرے کے ’مینڈیٹ، کا احترام کرنے کے لیے باضابطہ طور پر تحریری معاہدہ کرلیا ہے۔

جمعرات کو نوازشریف اور بینظیر بھٹوں کے درمیان جدہ میں ملاقات ہوئی جس میں آصف علی زرداری نے بھی شرکت کی۔

ملاقات میں موجود مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے جدہ سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاہدہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کے درمیان ہونے والی تفصیلی ملاقات میں کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے ایک ’چارٹر آف ڈیموکریسی(جمہوریت کا منشور)‘ بنانے کے لیے اپنی جماعتوں کے ’ورکنگ گروپ‘ بنانے کا بھی فیصلہ کیا اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اس منشور پر متفق ہوں تاکہ مستقبل میں ملک کو آمریت سے بچایا جاسکے۔

اس ملاقات میں آصف علی زرادری ، ان کے وکیل سینیٹر فاروق ایچ نائک کے علاوہ مسلم لیگ کی جانب سے احسن اقبال اور کیپٹن صفدر نے بھی شرکت کی۔

بینظیر نواز ملاقات
ملاقات میں آصف علی زرداری نے بھی شرکت کی

آصف علی زرادری نے جدہ سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ بینظیر بھٹو اور وہ میاں نواز شریف سے ان کے والد کی وفات پر تعزیت کے لیے گئے تھے۔ لیکن ان کے مطابق ملک کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی اور دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک میں آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ دو ماہ بعد مجوزہ بلدیاتی انتخابات میں دونوں جماعتیں تعاون کریں گی جبکہ یہ تعاون آئندہ عام انتخابات میں بھی جاری رہے گا۔
احسن اقبال نے بتایا کہ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے دوپہر کا کھانا بھی اکٹھے کھایا۔ ان کے مطابق دونوں سابق اور جلاوطن وزراء اعظم کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا ہے۔

دونوں سابق وزراءاعظم دو دو مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہے لیکن کبھی اپنی پانچ سالہ مقررہ مدت مکمل نہیں کرسکے۔ آجکل دونوں رہنماء جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان حکومتوں سے باہر رہنے کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ بینظیر بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی اور میاں نوازشریف کی پاکستان مسلم لیگ دونوں ’اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں اور حزب مخالف کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملاقات کے بارے میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے علیحدہ علیحدہ بیانات بھی جاری کیے ۔ مسلم لیگ نواز کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں جماعتیں ملک کی سب سے بڑی پارٹیاں ہیں اس لیے ملک کوموجودہ بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گی۔

بیان کے مطابق دونوں جماعتیں ملک میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کرتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام، برداشت، انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق، ملکی ترقی، 1973 کے آئین کی اصل شکل میں بحالی، پارلیمان اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گی۔

مسلم لیگ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے سربراہان نے اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں دراڑیں ڈالنے کی کسی کی بھی کوششوں کو مل کر ناکام بنائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے بیان میں بتایا گیا کہ کم سے کم جمہوریت کے منشور کے تعین کے لیے پیپلز پارٹی سے رضا ربانی اور ڈاکٹر صفدر عباسی جبکہ مسلم لیگ کی جانب سے احسن اقبال اور اسحاق ڈار کو نامزد کیا گیا ہے۔

ان کے بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نواز شریف نے قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن سے ہونے والی بات چیت سے بھی بینظیر بھٹو کو آگاہ کیا۔
بینظیر بھٹو نے بعد میں نواز شریف کی اہلیہ اور ان کے بیٹے سے بھی ملاقات کی۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد