رائے ونڈ میں دفن کرنے کی وصیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےسابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے والد میاں شریف نے وصیت کی تھی کہ وہ پاکستان میں دفن ہونا چاہتے ہیں اور انہوں نے اس جگہ کی نشاندہی بھی کر دی تھی جہاں وہ ابدی نیند سونا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ میاں شریف نے اپنے اولاد سے کہا تھا کہ انہیں لاہور کے نواحی علاقے رائےونڈ میں شریف میڈیکل سٹی کے سامنے دفن کیا جائے۔ صدیق الفاروق نے کہا کہ امکان ہے کہ ان کی میت اتوار کو پاکستان لائی جائےگی۔انہوں نے بتایا کہ ان کے دونوں بیٹے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف بھی میت کے ساتھ پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر نے ان سے پاکستان آنے والی پروازوں کا شیڈول منگوایا ہے اور میت کے لیے خصوصی تابوت کا بندوبست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے قانون کے مطابق ضابطے کی کارروائی پوری کی جا رہی ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن حکام کا کہنا تھا کہ سنیچر کو میت پاکستان لائے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف نے پانچ سال قبل ان کے صاحبزادے میاں نواز شریف کی حکومت کو ایک پرامن فوجی بغاوت کے نتیجے میں ختم کر دی تھی۔ میاں شریف کو دس دسمبر سن دو ہزار کو پورے خاندان سمیت جلاوطن کر دیا گیا تھا اور وہ تب سے سعودی عرب میں ہی مقیم تھے۔ میاں شریف کی وفات کی اطلاع کے بعد پاکستان میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ انہیں پاکستان میں دفن کیا جائے گا یا سعودی عرب میں سپرد خاک کر دیا جائے۔ ان کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے کہاکہ ابھی یہ فیصلہ کرنا ممکن نہیں کہ ان کے ورثاء ان کی تدفین کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ جب تک حکومت کو ان کے خاندان کی طرف سے کوئی درخواست نہیں مل جاتی تب تک یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ان کی میت کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائےگی یا نہیں۔ میاں شریف کے قریبی حلقوں کے مطابق وہ خاصے مذہبی سوچ کے مالک تھے۔ تاہم وفاقی وزیر کا خیال تھا کہ اگر وہ میت کو پاکستان لانا چاہیں گے توشاید حکومت ہمدردانہ غور کرے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ میاں شریف کی میت اگر پاکستان لائی گئی تو پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا ان کے صاحبزدوں خاص طور پر میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو ان کی تدفین کی رسومات اور لحد میں اتارنے سے قبل ان کے آخری دیدارکے لیے پاکستان آنے کی اجازت ملےگی یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||