پولیس کی مبینہ زیادتی پر تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم شوکت عزیز نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ انہوں نے فیصل آباد میں پولیس کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی سونیہ ناز کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے حزب اختلاف کی جانب سے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئی کہی اور ایوان کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ قبل ازیں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن، خواجہ سعد رفیق، خواجہ محمد آصف اور حافظ حسین احمد نے سونیہ ناز کے ساتھ پولیس کی زیادتی پر سخت احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فیصل آباد کے متعلقہ پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ جس پر وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا کہ تحقیقات سے قبل کسی کو معطل کرنا درست نہیں اس لیے انہیں جانچ مکمل کرنے دی جائے۔ وزیر داخلہ نے ایوان کو یقین دلایا کہ دوران تفتیش اگر ان پولیس اہلکاروں کے بارے میں کوئی ثبوت ملا تو انہیں فوری معطل کیا جائے گا۔ اس دوران فیصل آباد سے منتخب مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی راجہ نادر پرویز نے کہا کہ متعلقہ پولیس ایس پی کو وہ جانتے ہیں اور وہ خاصے بدعنوان ہیں۔ ان کے بقول وہ پولیس اہلکار بدعنوانی کے الزامات کے تحت معطل ہوئے تھے اور اب یہ بھی بتایا جائے کہ انہیں کس کے حکم پر بحال کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دو بچوں کی ماں تئیس سالہ سونیہ ناز اپنے گرفتار شوہر کو انصاف دلانے کے لیے چند ماہ قبل غلطی سے قومی اسمبلی کے ایوان کے اندر داخل ہوکر اراکین اسمبلی کے ساتھ بیٹھ گئیں تھیں اور انہیں بعد میں جیل بھجوایا گیا تھا۔ انہوں نے ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا تفصیلی ذکر کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ فیصل آباد کے ایس پی تحقیقات خالد عبداللہ کے حکم پر انہیں ایس ایچ او جڑانوالہ جمشید چشتی نے اغوا کرکے دو ہفتے تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||